امریکی کانگریس کی خارجہ امور کمیٹی کے ڈیموکریٹ اراکین نے ٹرمپ انتظامیہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران سے متعلق پاکستان میں جاری مذاکرات کے دوران اپنی ذمہ داریاں ادھوری چھوڑ دیں۔
ڈیموکریٹ اراکین کے الزامات
ڈیموکریٹ اراکین کے مطابق مارکو روبیو مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے کے بجائے یو ایف سی (UFC) فائٹ دیکھنے چلے گئے، جسے انہوں نے غیر سنجیدہ اور غیر پیشہ ورانہ رویہ قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب توانائی کے شعبے میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور ہزاروں امریکی شہری معاشی دباؤ کا شکار ہیں، حکومتی قیادت کو زیادہ سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔
انتظامیہ پر تنقید
کمیٹی اراکین نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ قیادت بین الاقوامی بحرانوں کو مطلوبہ سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔ ان کے مطابق خارجہ پالیسی جیسے حساس معاملات میں مسلسل توجہ اور موجودگی ضروری ہوتی ہے۔
آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: امریکی اعلان، خطے میں کشیدگی میں اضافہ
انہوں نے اس صورتحال کو امریکی عوام کے مفادات کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عالمی سطح پر امریکا کے سفارتی کردار پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
ویڈیو کا حوالہ
ڈیموکریٹ اراکین نے ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لوگوں سے ہاتھ ملاتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ان کے ساتھ مارکو روبیو بھی موجود ہیں۔ یہ ویڈیو اس بحث کے دوران سیاسی حلقوں میں مزید موضوعِ گفتگو بن گئی۔
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل پہلے ہی حساس مرحلے میں ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے سیاسی بیانات اور الزامات اندرونی سیاسی تقسیم کو بھی ظاہر کرتے ہیں، جو خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
