واشنگٹن: امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی کے وائس چئیر ڈاکٹر آصف محمود نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کو "انتہائی تشویش کا حامل ملک” (Country of Particular Concern) قرار دیا جائے اور بھارت سے ہونے والی تجارت کو مذہبی آزادی کی صورتحال بہتر ہونے سے مشروط کیا جائے۔
بھارتی ریاستوں میں مذہبی خلاف ورزیوں کے الزامات
ڈاکٹر آصف محمود نے کہا کہ بھارت میں گرجا گھروں پر حملے، مسلمانوں پر گوشت کھانے پر پابندیاں، غیر ہندو لڑکیوں سے جبری شادیاں، اور ہجوم کے ہاتھوں لوگوں پر تشدد کے متعدد کیسز سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی تیرہ ریاستوں میں مذہب کی تبدیلی کے خلاف قوانین نافذ کیے جا چکے ہیں، اور یہ قوانین اقلیتوں بشمول مسلمانوں اور مسیحیوں پر غیر متناسب اثر ڈال رہے ہیں۔
مطالبہ: تجارتی پابندی اور عالمی اقدام
ڈاکٹر آصف محمود نے زور دیا کہ بھارت کو نہ صرف "انتہائی تشویش کا حامل ملک” قرار دیا جائے بلکہ امریکا کی تجارت کو بھی اس بنیاد پر مشروط کیا جائے کہ بھارت میں مذہبی آزادی اور عقائد کے احترام کی صورتحال بہتر ہو۔
بھارتی وزیر خارجہ کے بیان پر تنقید، سفارتی اندازِ گفتگو زیر بحث
سوشل میڈیا پر بھارتی لابی کی ردعمل
امریکی پاکستانی ڈاکٹر آصف محمود کے مطالبات کے بعد بھارت میں انتہا پسند لابی سوشل میڈیا پر انتہائی متحرک ہو گئی ہے۔
- صارف راجندرا پاٹیک نے امریکی کمیشن اور ڈاکٹر آصف محمود کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ بھارت کا اصل دشمن امریکا ہے۔
- پراوڈ ہندو نامی صارف نے ڈاکٹر آصف محمود پر بے بنیاد طور پر "جہادی” ہونے کا لیبل لگا دیا۔
- بھارت نامی صارف نے یوایس سی آئی آر ایف کو ٹیگ کرتے ہوئے اسے نیونازی قرار دیا اور کہا کہ اپنی توجہ ریڈ انڈینز کی مذہبی آزادی پر مرکوز کرو۔
- اجے بھارتی نامی صارف نے ڈاکٹر آصف محمود کے بارے میں جھوٹی تصویر اور پیغام شیئر کیا اور لکھا کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والا شخص یوایس سی آئی آر ایف میں وائس چیئر بن کر بھارت کو لیکچر دے رہا ہے۔
ڈاکٹر آصف محمود کا موقف عالمی برادری اور امریکی حکومت کو بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر سنجیدہ اقدامات کرنے کی یاد دہانی کراتا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر بھی زیرِ بحث ہیں۔
