بھارت کی سب سے بڑی ایئرلائن کو ملکی تاریخ کے سب سے بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے بعد فضائی آپریشن بری طرح متاثر ہوا اور ہزاروں پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی سول ایوی ایشن ریگولیٹر ڈی جی سی اے نے ایئرلائن پر 24 لاکھ 50 ہزار امریکی ڈالر کا بھاری جرمانہ عائد کیا ہے۔
برطانوی اخبار کے مطابق جرمانے کے نفاذ کے بعد ایئرلائن کے شیڈول میں شدید خلل پیدا ہوا، جس کے نتیجے میں اندرون و بیرون ملک ہزاروں پروازیں منسوخ ہوئیں۔ اس صورتحال نے دسیوں ہزار مسافروں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا، جنہیں ایئرپورٹس پر گھنٹوں انتظار، ٹکٹوں کی منسوخی اور متبادل پروازوں کی عدم دستیابی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق بحران کی بنیادی وجہ ایئرلائن کی ناقص پائلٹ روسٹر پلاننگ کو قرار دیا جا رہا ہے۔ عملے کی ڈیوٹیوں کی غلط منصوبہ بندی، آرام کے اوقات کو نظرانداز کرنا اور آپریشنل بفرز کی کمی نے نظام کو دباؤ میں ڈال دیا۔ ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ ایئرلائن نے طیاروں اور عملے کا حد سے زیادہ استعمال کیا، جس کے باعث پورا آپریشنل ڈھانچہ مفلوج ہو کر رہ گیا۔
برطانوی اخبار کے مطابق ڈی جی سی اے نے سخت کارروائی کرتے ہوئے ایئرلائن کے ہیڈ آف آپریشنز کنٹرول کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا حکم دے دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایئرلائن کی اعلیٰ انتظامیہ کو سخت وارننگ بھی جاری کی گئی ہے کہ مستقبل میں ایسے انتظامی اور آپریشنل نقائص کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
ریگولیٹری حکام کا کہنا ہے کہ مسافروں کی سلامتی اور سہولت کو اولین ترجیح حاصل ہے، اور اس مقصد کے لیے ایئرلائنز کو طے شدہ قواعد و ضوابط پر مکمل عملدرآمد کرنا ہوگا۔ خلاف ورزی کی صورت میں مزید سخت اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب برطانوی اخبار کے مطابق بھارتی ایئرلائن کی انتظامیہ نے ریگولیٹر کے احکامات پر مکمل عملدرآمد کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ ایئرلائن حکام کا کہنا ہے کہ پائلٹ روسٹرنگ، عملے کی دستیابی اور آپریشنل منصوبہ بندی کو ازسرنو ترتیب دیا جا رہا ہے تاکہ مسافروں کو درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جا سکے اور مستقبل میں اس نوعیت کے بحران سے بچا جا سکے۔
