بھارت کی ریاست راجستھان میں ہندو مذہبی تہواروں کے پیش نظر پہلی بار انڈوں کی فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جس سے مقامی سطح پر نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ پابندی ریاست میں منائے جانے والے پریوشن، سموتسری اور اننت چتردشی جیسے مذہبی تہواروں کے دوران لگائی گئی ہے۔ پہلے صرف گوشت اور مچھلی کی دکانوں کو بند رکھنے کا حکم ہوتا تھا، لیکن اس بار نان ویج اشیاء کے ساتھ انڈے کی فروخت پر بھی مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔
مقامی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ 28 اگست اور 6 ستمبر کو ریاست بھر میں تمام نان ویج فوڈ شاپس، ذبح خانے اور انڈے بیچنے والی دکانیں بند رہیں گی۔
بلدیاتی اداروں کے سربراہ نے اپنے بیان میں کہا کہ مذہبی تنظیمیں طویل عرصے سے عدم تشدد کے اصولوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کر رہی تھیں، اور اسی بنا پر حکومت نے اب اس روایت میں تبدیلی کرتے ہوئے انڈوں پر بھی پابندی لگا دی ہے۔
پابندی کے اس فیصلے پر مخلوط ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایک طرف مذہبی تنظیمیں اس فیصلے کو عدم تشدد اور روحانی پاکیزگی کی جانب اہم قدم قرار دے رہی ہیں، تو دوسری جانب حقوق انسانی کے کارکنان اور کاروباری افراد اسے خوراک اور کاروباری آزادی پر قدغن تصور کر رہے ہیں۔