قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان بن جاسم الثانی نے کہا ہے کہ ایران نے قطر کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے، تاہم اس کے باوجود خطے میں کشیدگی کم کرنے اور حملے فوری طور پر بند کرنے کی ضرورت ہے۔
اسکائی نیوز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں قطری وزیراعظم نے ایران کے ساتھ حالیہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے حملے خطے میں مزید تناؤ کا سبب بن رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران غلط اندازے لگا کر قطر کو نشانہ بنا رہا ہے جس سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قطر کی تنصیبات یا خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس سے عالمی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات نہایت حساس ہیں اور پوری دنیا اس کشیدگی کے اثرات محسوس کر سکتی ہے۔
شیخ محمد بن عبدالرحمان بن جاسم الثانی نے بتایا کہ قطر نے ہمیشہ خطے کے پیچیدہ تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔ جنگ شروع ہونے کے صرف ایک گھنٹے بعد قطر اور دیگر خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا گیا، جس کی توقع نہیں تھی۔
انہوں نے واضح کیا کہ قطر کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔ ان کے مطابق دوحہ نے ہمیشہ تہران کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار رکھے اور تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی، لیکن موجودہ صورتحال مایوس کن ہے۔
جنگ جاری رہی تو تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے:قطر
قطری وزیراعظم نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے دیے گئے حملوں کے جواز کو قطر مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کشیدگی کم کرنا تمام فریقوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور خطے کو کسی بڑی جنگ سے بچانے کے لیے فوری سفارتی اقدامات ناگزیر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران قطر کا پڑوسی ہے اور دونوں ممالک کو مستقبل میں بھی ساتھ رہنا ہے، اس لیے موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد راستہ مذاکرات اور سفارت کاری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تناؤ میں کمی نہ لائی گئی تو پورا خطہ سنگین جنگی صورتحال کی طرف جا سکتا ہے۔
قطری وزیراعظم کے مطابق ایران کی جانب سے کئی حملوں میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس میں ہوائی اڈے، پانی کی فراہمی کے نظام اور گیس کے بنیادی ڈھانچے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قطر دنیا کی تقریباً 20 فیصد گیس فراہم کرتا ہے، اس لیے ان تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی صورت میں عالمی معیشت کو بھی بڑا دھچکا لگ سکتا ہے۔
