امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق صدرٹرمپ ایران کی موجودہ قیادت کے خاتمے کی کوششوں میں سرگرم ہیں، تاہم اس کے بعد کی سیاسی حکمتِ عملی یا مستقبل کے لائحۂ عمل کے حوالے سے کوئی واضح منصوبہ سامنے نہیں آیا۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ امریکا کا ماضی میں آمرانہ حکومتوں کو ہٹا کر جمہوری نظام قائم کرنے کا تجربہ پیچیدہ اور متنازع رہا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے مواقع پر بھی نتائج توقعات کے مطابق نہیں رہے جب بعد ازاں مرحلے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی موجود تھی۔
میڈیا تبصروں میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ان مداخلتوں کے نتیجے میں کئی ممالک طویل المدتی عدم استحکام اور داخلی تنازعات کا شکار ہوئے، جبکہ بعض ریاستوں میں امریکا مخالف جذبات میں اضافہ دیکھا گیا اور وہ مضبوط اتحادی بھی ثابت نہ ہو سکیں۔
امریکی میڈیا: سی آئی اے نے ایرانی اجتماع کا سراغ لگایا، اسرائیل نے حملہ کیا
اس سے قبل ایک برطانوی اخبار نے بھی خبردار کیا تھا کہ ایران میں ممکنہ رجیم چینج کی کوشش میں صرف فضائی حملوں پر انحصار خطرناک ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں 2003 میں Iعراق اور 2001 میں افغانستان کی مثالیں دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس نوعیت کی حکمتِ عملی کے طویل المدتی اثرات پیچیدہ اور غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خطے کی بدلتی صورتحال کے پیشِ نظر واضح سیاسی روڈ میپ کی عدم موجودگی مستقبل میں مزید غیر یقینی کیفیت کو جنم دے سکتی ہے۔
