امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ ایران سے جاری جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ منگل کی صبح ایشیائی منڈیوں میں کاروبار کے آغاز پر خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی ریکارڈ کی گئی۔
برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 8.5 فیصد کم ہو کر 92.50 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ امریکہ میں فروخت ہونے والا ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی تقریباً 9 فیصد کمی کے بعد 88.60 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
اگرچہ حالیہ کمی نمایاں ہے، لیکن ماہرین کے مطابق قیمتیں اب بھی اس سطح سے تقریباً 30 فیصد زیادہ ہیں جو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے آغاز سے قبل دیکھنے میں آ رہی تھیں۔
تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں کو بھی کچھ سہارا ملا۔ جاپان کے نکی 225 انڈیکس میں تقریباً 2.8 فیصد اضافہ ہوا جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں پانچ فیصد سے زائد بہتری دیکھی گئی۔
عالمی منڈی میں تیل مہنگا، قیمت 117 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی
اس سے قبل تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ایشیائی معیشتوں پر دباؤ ڈالا تھا کیونکہ اس خطے کے کئی ممالک خلیجی ممالک سے بڑی مقدار میں تیل درآمد کرتے ہیں، جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ان کی معیشتوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔
