مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران اسرائیلی وزیراعظم Benjamin Netanyahu کو اپنی ہلاکت کی گردش کرتی خبروں کی تردید کے لیے ویڈیو جاری کرنا پڑ گئی۔ سوشل میڈیا پر دعوے سامنے آئے تھے کہ ایرانی میزائل حملوں میں وہ ہلاک ہو گئے ہیں، تاہم بعد ازاں انہوں نے خود ویڈیو پیغام کے ذریعے ان افواہوں کو مسترد کر دیا۔
سوشل میڈیا پر افواہوں کا پھیلاؤ
حالیہ دنوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف پوسٹس اور ویڈیوز گردش کرنے لگیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ ایرانی حملوں میں اسرائیلی وزیراعظم مارے گئے ہیں۔ ان دعوؤں نے آن لائن پلیٹ فارمز پر تیزی سے توجہ حاصل کی، جس کے بعد اسرائیلی حکام کو وضاحت دینا پڑی۔
بعد ازاں وزیراعظم کے دفتر نے بھی واضح کیا کہ Benjamin Netanyahu محفوظ ہیں اور ان کی ہلاکت کی خبریں بے بنیاد ہیں۔
کیفے سے جاری کی گئی ویڈیو
افواہوں کے جواب میں نیتن یاہو نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں وہ ایک کیفے سے کافی لیتے ہوئے نظر آئے۔ ویڈیو میں انہوں نے عبرانی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے اپنے مرنے کی خبروں کو مسترد کیا۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ “میں کافی پر مر گیا ہوں”، جس کا مقصد ان افواہوں کا مذاق اڑانا تھا۔ ویڈیو میں انہوں نے اسرائیلی شہریوں کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں جس طرح لوگ صبر اور حوصلے کا مظاہرہ کر رہے ہیں، اس پر انہیں فخر ہے۔
אומרים שאני מה? צפו >> pic.twitter.com/ijHPkM3ZHZ
— Benjamin Netanyahu – בנימין נתניהו (@netanyahu) March 15, 2026
جعلی ویڈیو کی وضاحت
ویڈیو کے دوران نیتن یاہو نے اپنے دونوں ہاتھ بھی اٹھا کر دکھائے تاکہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک جعلی ویڈیو کی تردید کی جا سکے۔ اس ویڈیو میں مبینہ طور پر ان کے ایک ہاتھ میں چھ انگلیاں دکھائی گئی تھیں، جسے بعد میں جعلی قرار دیا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کے دونوں ہاتھوں میں معمول کے مطابق پانچ پانچ انگلیاں ہیں اور وائرل ویڈیو حقیقت پر مبنی نہیں۔
ہم طویل جنگ نہیں چاہتے، ایران کے خلاف کارروائی تیز اور فیصلہ کن ہوگی: نیتن یاہو
شہریوں کے لیے احتیاطی ہدایات
اپنے پیغام میں اسرائیلی وزیراعظم نے شہریوں کو یہ بھی کہا کہ وہ تازہ ہوا لینے کے لیے گھروں سے باہر نکل سکتے ہیں، تاہم حفاظتی نقطہ نظر سے پناہ گاہوں کے قریب رہیں۔ یہ ہدایات خطے میں جاری کشیدگی اور ممکنہ حملوں کے خدشات کے باعث دی گئی ہیں۔
ایران کی جانب سے سخت بیانات
دوسری جانب Islamic Revolutionary Guard Corps (پاسدارانِ انقلاب) کی جانب سے سخت بیانات بھی سامنے آئے ہیں۔ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ اگر نیتن یاہو زندہ ہیں تو انہیں تلاش کیا جائے گا۔
پاسداران انقلاب کے بیانات میں کہا گیا کہ اسرائیل میں جاری صورتحال اور ایمبولینسوں کی آوازیں ان کے حملوں کے اثرات کو ظاہر کرتی ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
ماہرین کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سوشل میڈیا پر غلط اطلاعات اور افواہوں کا پھیلاؤ بھی ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے، جس کے باعث اکثر اوقات سرکاری وضاحتیں دینا پڑتی ہیں۔
