اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل طویل جنگ کا خواہاں نہیں، تاہم ایران کے خلاف کارروائی تیز، ہدفی اور فیصلہ کن ہوگی۔ ایک امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر امریکا اور اسرائیل بروقت حملہ نہ کرتے تو ایران کا جوہری پروگرام محفوظ رہتا اور مستقبل میں کارروائی مشکل ہو جاتی۔
نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کا فیصلہ ایرانی عوام کا حق ہے، تاہم اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔ انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ برسوں سے امریکا پر ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا رہا اور بالآخر سابق امریکی صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اسرائیلی مؤقف کی تائید کی۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے بیان دیا کہ ایران میں زمینی افواج بھیجنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، تاہم امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے ریاض میں امریکی سفارت خانے پر مبینہ حملے کا جواب دینے کا بھی عندیہ دیا، جبکہ امریکی میڈیا کے مطابق ڈرون حملے کے وقت سفارت خانہ خالی تھا۔
نیتن یاہو کا ایران کو سخت انتباہ: جواب ایسا ہوگا جو دنیا نے پہلے نہیں دیکھا
خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث سفارتی اور عسکری حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے اور عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
