امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے ایران سے متعلق جاری کشیدگی کے تناظر میں واضح کیا ہے کہ امریکا کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے زمینی فوج بھیجنے کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ طویل نہیں ہوگی بلکہ مہینوں کے بجائے چند ہفتوں میں مکمل کی جا سکتی ہے۔
خبر رساں ادارے Reuters کے مطابق، فرانس میں ہونے والے جی7 اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ امریکا اس آپریشن میں طے شدہ شیڈول کے مطابق یا اس سے بھی آگے بڑھ رہا ہے اور جلد اپنے اہداف حاصل کر لے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ زمینی فوج کی ضرورت نہیں، تاہم خطے میں محدود تعداد میں امریکی فوجی دستے تعینات کیے جا رہے ہیں تاکہ صدر Donald Trump کو حالات کے مطابق فیصلے کرنے کے لیے مکمل اختیارات حاصل ہوں۔
رپورٹس کے مطابق امریکا نے خطے میں ہزاروں میرینز کے دو دستے بھیج دیے ہیں، جبکہ ایک بڑا ایمفیبیئس اسالٹ جہاز بھی تعیناتی کے لیے روانہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پینٹاگون کی جانب سے ایئر بورن فوجیوں کی تعیناتی بھی متوقع ہے، جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ فضائی کارروائیاں ممکنہ طور پر زمینی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کی جانب سے بھیجی گئی 15 نکاتی تجویز کے باضابطہ جواب کا انتظار کر رہا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے اور ایران کی جانب سے مذاکرات پر آمادگی کے کچھ اشارے بھی ملے ہیں، تاہم مزید وضاحت درکار ہے کہ مذاکرات کب اور کن نکات پر ہوں گے۔
ایران کا مذہبی نظام خطے اور دنیا کے لیے خطرہ ہے: مارکو روبیو
دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکی تجویز کو مسترد کر دیا ہے، تاہم سفارتی رابطے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ رپورٹس کے مطابق ثالثی کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے اور امکان ہے کہ ایران کی جانب سے جوابی تجویز جلد سامنے آئے گی۔
ذرائع کے مطابق امریکی تجاویز میں ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کے خاتمے کے ساتھ ساتھ اہم عالمی توانائی راستوں پر کنٹرول چھوڑنے جیسے مطالبات شامل ہیں، جنہیں ایران نے یکطرفہ قرار دیا ہے، تاہم دونوں جانب سے سفارتی راستہ کھلا رکھنے کے اشارے دیے جا رہے ہیں۔
