ایک واقعے میں ایک شخص پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ ٹوپی پہن کر خود کو مسلمان ظاہر کر رہا تھا اور ہندوؤں کے خلاف اشتعال انگیز گفتگو کر کے نفرت پھیلانے کی کوشش کر رہا تھا۔ موقع پر موجود افراد نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ شخص ہندو ہے اور مسلمانوں کا بھیس اختیار کرکے مذہبی منافرت کو ہوا دے رہا تھا۔
واقعے کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی شیام میرا سنگھ کے مطابق انہیں رپورٹنگ کے دوران مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ انہوں نے پولیس اہلکار کی جانب سے تشدد کیے جانے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
واقعے کی رپورٹنگ کے دوران صحافی کو روکنے کی کوشش
صحافی شیام میرا سنگھ کے مطابق جب وہ واقعے کی رپورٹنگ کر رہے تھے تو وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے کارکنوں نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔
رپورٹ کے مطابق صحافی نے پولیس سے تحفظ طلب کیا، تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں تحفظ فراہم کرنے کے بجائے حراست میں لینے کی کوشش کی گئی۔
شیام میرا سنگھ نے الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکار نے بس میں ان پر ڈنڈے سے 3 وار کیے۔ ان کے اس دعوے کے حوالے سے فراہم کردہ خبر میں پولیس کا مؤقف یا واقعے کی آزادانہ تصدیق شامل نہیں ہے۔
مذہبی منافرت اور شناخت کے حوالے سے سوالات
واقعے میں زیر بحث شخص کی شناخت اور اس کے مبینہ مقصد کے حوالے سے موقع پر موجود افراد نے دعوے کیے ہیں۔ ان کے مطابق وہ شخص اپنی مذہبی شناخت چھپا کر اشتعال انگیز گفتگو کر رہا تھا، تاہم فراہم کردہ معلومات میں اس شخص کی شناخت، گرفتاری یا اس کے خلاف کسی قانونی کارروائی کی تفصیلات موجود نہیں۔
مذہبی شناخت کی بنیاد پر کسی شخص کے بارے میں دعوے کرنے کے بجائے ضروری ہے کہ واقعے کی تحقیقات شواہد کی بنیاد پر کی جائیں اور ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔
مودی کی یوم آزادی تقریر پر کانگریس برہم، ہندوتوا بیانیہ جمہوریت کے لیے خطرہ قرار
پولیس کے کردار پر سوالات
صحافی کی جانب سے پولیس اہلکار پر تشدد کے الزام نے واقعے میں پولیس کے کردار سے متعلق سوالات بھی اٹھائے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے پولیس کا باضابطہ بیان سامنے آنے کی تفصیل فراہم کردہ خبر میں شامل نہیں۔
واقعے کے تمام پہلوؤں کی تصدیق، متعلقہ افراد کے بیانات اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ہی کی جا سکتی ہے۔ فی الحال صحافی کی جانب سے عائد کردہ الزامات اور موقع پر موجود افراد کے دعوؤں کو حتمی طور پر ثابت شدہ حقائق قرار نہیں دیا جا سکتا۔
