امریکا اور ایران کی بڑھتی کشیدگی: خطے میں جنگ کے خطرات پر آیت اللہ خامنہ ای کا انتباہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

تہران میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکا کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو اس کے اثرات صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ جنگ پورے خطے میں پھیل جائے گی۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف مسلسل سخت اور دھمکی آمیز بیانات دیے جا رہے ہیں۔

latest urdu news

امریکی دھمکیوں پر ایرانی ردِعمل

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے خطاب میں امریکی صدر کے بیانات کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ بار بار جنگی جہازوں اور فوجی طاقت کا ذکر کر رہے ہیں، تاہم ایرانی قوم ایسی دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام نہ ماضی میں دباؤ میں آئے اور نہ ہی مستقبل میں اس طرح کی زبان سے مرعوب ہوں گے۔

ایران کی دفاعی پالیسی کا مؤقف

آیت اللہ خامنہ ای نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت کا آغاز نہیں کرتا اور نہ ہی اس کی خواہش رکھتا ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر کسی نے ایرانی قوم پر حملہ کیا یا ایران کو ہراساں کرنے کی کوشش کی تو اس کا جواب سخت، فوری اور فیصلہ کن ہوگا۔ ان کے مطابق یہ ردِعمل محض دفاعی نوعیت کا ہوگا لیکن اس کے نتائج حملہ آور کے لیے سنگین ہو سکتے ہیں۔

خطے کی صورتحال اور امریکی عسکری موجودگی

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ امریکی بحریہ کے مطابق اس وقت خطے میں 6 جدید ڈسٹرائر، ایک طیارہ بردار بحری جہاز اور تین لیٹورل کامبیٹ شپ تعینات ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ تعیناتی ایران پر دباؤ بڑھانے اور ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاری کے تناظر میں دیکھی جا رہی ہے۔

ایران، روس اور چین کا شمالی بحرِ ہند میں مشترکہ بحری مشقوں کا اعلان

علاقائی امن کو درپیش خطرات

بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی براہِ راست تصادم کی صورت میں اس کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک بھی اس کشیدگی کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کے بیان کو خطے کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مجموعی طور پر ایرانی قیادت کا مؤقف یہ ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتی، لیکن کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ موجودہ حالات میں یہ کشیدگی نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات کے لیے بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter