امریکا کی سابق نائب صدر اور ڈیموکریٹ پارٹی کی نمایاں رہنما کاملا ہیرس نے وینزویلا پر امریکی حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات سے امریکا نہ تو زیادہ محفوظ ہوا، نہ مضبوط اور نہ ہی اس کی عالمی ساکھ میں بہتری آئی۔ کاملا ہیرس کے مطابق ایسے فوجی اقدامات دراصل امریکی عوام کے مفادات کے خلاف ثابت ہوتے ہیں۔
امریکی حملے پر کاملا ہیرس کا مؤقف
کاملا ہیرس نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کا غیر قانونی، ظالم اور آمر ہونا اپنی جگہ، لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ امریکا کی جانب سے کیا گیا حملہ خود غیر قانونی اور غیر دانش مندانہ تھا۔ ان کے مطابق بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کسی بھی صورت میں قابلِ جواز نہیں ہو سکتی، چاہے اس کے پیچھے کوئی بھی سیاسی یا اخلاقی دلیل دی جائے۔
جنگوں کے نتائج اور امریکی عوام
کاملا ہیرس نے کہا کہ امریکا میں اکثر حکمرانوں کی تبدیلی یا تیل کے حصول کے لیے کی جانے والی جنگوں کو طاقت کی علامت بنا کر پیش کیا جاتا ہے، لیکن اس کی اصل قیمت امریکی عوام کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ ان کے بقول یہ جنگیں نہ صرف اربوں ڈالر کے اخراجات کا باعث بنتی ہیں بلکہ انسانی جانوں کے ضیاع اور عالمی سطح پر امریکا کے خلاف ردِعمل کو بھی جنم دیتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی عوام جنگ نہیں چاہتے۔ لوگ طویل عرصے سے غلط معلومات اور جھوٹے بیانیوں سے تنگ آ چکے ہیں اور اب وہ اپنی قیادت سے شفافیت اور ذمہ دارانہ فیصلوں کی توقع رکھتے ہیں۔
وینزویلا کی صورتحال اور حالیہ واقعہ
واضح رہے کہ امریکا نے ہفتے کے روز وینزویلا پر فوجی کارروائی کی، جس کے دوران امریکی ڈیلٹا فورس نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو صدارتی محل سے حراست میں لے لیا۔ اس واقعے کے بعد عالمی سطح پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا اور کئی حلقوں نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔
سیاسی اور عالمی اثرات
ماہرین کے مطابق کاملا ہیرس کا یہ بیان نہ صرف ٹرمپ کی خارجہ پالیسی پر تنقید ہے بلکہ مستقبل کی امریکی سیاست میں جنگ مخالف بیانیے کو بھی تقویت دیتا ہے۔ یہ معاملہ ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر رہا ہے کہ عالمی تنازعات میں فوجی طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی اور سیاسی حل کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
