متنازع بیانات اور بالی ووڈ شخصیات پر سخت تنقید کے حوالے سے شہرت رکھنے والے اداکار اور فلمی ناقد کمال راشد خان المعروف کمال آر خان کو ممبئی پولیس نے فائرنگ کے ایک سنگین الزام کے تحت حراست میں لے لیا ہے۔ یہ واقعہ بھارتی شوبز انڈسٹری اور سوشل میڈیا حلقوں میں ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ممبئی پولیس نے کمال آر خان کو ایک رہائشی عمارت پر فائرنگ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ممبئی کے علاقے اوشیواڑہ میں پیش آیا، جہاں اداکار نے مبینہ طور پر ایک عمارت کی جانب چار راؤنڈ فائر کیے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس حرکت میں آئی اور فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو حراست میں لے لیا۔
پولیس کے مطابق گرفتاری کے دوران کمال آر خان کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والا پستول بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم یہ عمل عوامی سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا تھا، جس کے باعث سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
پولیس اس وقت واقعے کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے۔ تفتیشی حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ فائرنگ کے پیچھے اصل مقصد کیا تھا، آیا یہ کسی ذاتی تنازع کا نتیجہ تھی یا کسی اور وجہ سے کی گئی۔ اس کے علاوہ اس پہلو کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا کمال آر خان فائرنگ کے وقت نشے کی حالت میں تھے یا اس واقعے کے پیچھے کوئی پرانی دشمنی کارفرما تھی۔
واضح رہے کہ کمال آر خان ماضی میں بھی متعدد بار قانونی مسائل کا سامنا کر چکے ہیں۔ وہ اپنے متنازع ٹوئٹس، سخت زبان اور بالی ووڈ کے معروف اداکاروں پر تنقیدی بیانات کی وجہ سے اکثر خبروں کی زینت بنتے رہے ہیں۔ اس سے قبل انہیں 2022 میں ممبئی ایئرپورٹ سے دو سال پرانے ٹوئٹس کے معاملے پر گرفتار کیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ 2020 میں مرحوم اداکار عرفان خان اور رشی کپور سے متعلق قابلِ اعتراض بیانات دینے پر بھی ان کے خلاف کارروائی کی گئی تھی، جس کے باعث انہیں کچھ وقت جیل میں بھی گزارنا پڑا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ موجودہ کیس میں شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی کی جائے گی، جبکہ کمال آر خان کو عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
