جیفری ایپسٹین کی فائلز میں عمران خان کا نام

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

بین الاقوامی سطح پر سامنے آنے والی جیفری ایپسٹین سے متعلق نئی دستاویزات میں بعض عالمی شخصیات کے نام شامل ہونے پر ایک بار پھر بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق ان تازہ فائلز میں پاکستان یا پاکستانی شہریوں کی تعداد زیادہ نہیں، تاہم سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے نام دستاویزات میں موجود ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ان ناموں کی شمولیت مختلف ای میلز اور رابطوں کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جنہیں پس منظر سے ہٹ کر کسی الزام کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔

latest urdu news

میڈیا رپورٹس کے مطابق جیفری ایپسٹین اور مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کی ٹیم کے درمیان بعض ای میلز کا تبادلہ ہوا تھا، جن میں عالمی سطح پر پولیو کے خاتمے سے متعلق پروگراموں پر بات چیت کی گئی۔ ان ای میلز میں بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے سابق مشیر بورس نکولیک بھی شامل تھے۔ ایک ای میل میں ایک نامعلوم شخص نے ایپسٹین کو آگاہ کیا کہ پاکستان اور نائجیریا میں پولیو ٹیموں پر حملے ہو رہے ہیں اور سوال اٹھایا کہ اس صورتحال میں ایپسٹین کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔

دستاویزات میں شامل ایک اور ای میل، جو 2010 کی بتائی جاتی ہے، میں ایپسٹین اور جے پی مارگن کے ایک ایگزیکٹو جس اسٹینلے کے درمیان رابطے کا ذکر ہے۔ اس ای میل میں چند اہم غیر ملکی شخصیات سے ملاقات کے امکانات کا حوالہ دیا گیا، جن میں اس وقت کے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا نام بھی شامل بتایا جاتا ہے۔

ایک اور ای میل کے تبادلے میں یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ بل گیٹس پاکستانی میڈیا کی جانب سے عمران خان سے ان کی ٹیلی فونک گفتگو کی خبر شائع ہونے پر ناخوش تھے۔ رپورٹ کے مطابق بل گیٹس کو خدشہ تھا کہ اس طرح کی خبروں سے پاکستان میں پولیو کے خلاف جاری مہم پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، کیونکہ اس وقت پہلے ہی اس مہم کو مختلف چیلنجز کا سامنا تھا۔

ایپسٹین کیس: برطانوی سیاستدان لارڈ مینڈلسن نے لیبرپارٹی سے استعفیٰ دے دیا

ستمبر 2018 سے متعلق ایک ای میل میں گولڈمین سیکس کے ایک نمائندے جیڈ زیٹلین کی جانب سے ایپسٹین کو لکھا گیا تبصرہ بھی سامنے آیا ہے، جس میں عمران خان کی قیادت کے حوالے سے ذاتی رائے کا اظہار کیا گیا۔ اس تبصرے کو بھی تجزیاتی یا سیاسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ کسی الزام کے طور پر۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق دستاویزات میں ایک دلچسپ مگر غیر سنجیدہ نوعیت کا تبادلہ بھی شامل ہے، جس میں جیفری ایپسٹین نے پاکستانی شلوار قمیض سے متعلق اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ ای میل میں بتایا گیا ہے کہ ایپسٹین نے شلوار اور کرتا کے نام دریافت کیے اور بعد ازاں مزید جوڑے خریدنے کی خواہش ظاہر کی، جس میں قمیض کا سائز قدرے بڑا رکھنے کی درخواست بھی شامل تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان دستاویزات میں مختلف عالمی شخصیات کے ناموں کی موجودگی کو محض رابطوں اور ای میلز کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ کسی بھی نام کی شمولیت بذاتِ خود کسی قانونی یا اخلاقی الزام کی تصدیق نہیں کرتی، اور نہ ہی ان دستاویزات میں کسی غیر قانونی سرگرمی کا براہ راست ثبوت پیش کیا گیا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter