جے ڈی وینس اور نیتن یاہو کی گفتگو میں کشیدگی، برطانوی میڈیا کا دعویٰ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

برطانوی میڈیا کے مطابق JD Vance اور Benjamin Netanyahu کے درمیان حالیہ ٹیلیفونک گفتگو میں خاصا تناؤ دیکھنے میں آیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ گفتگو پیر کے روز ہوئی جس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ایران سے متعلق پالیسی پر اختلافات سامنے آئے۔

latest urdu news

میڈیا رپورٹس کے مطابق جے ڈی وینس نے الزام لگایا کہ نیتن یاہو نے ایران کے خلاف جنگ کو حد سے زیادہ آسان بنا کر پیش کیا اور سابق امریکی صدر Donald Trump کو اس میں شامل ہونے پر آمادہ کیا۔ وینس کا کہنا تھا کہ ایران میں رجیم تبدیلی کے حوالے سے جو توقعات ظاہر کی گئی تھیں، وہ حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

ذرائع کے مطابق نیتن یاہو نے ٹرمپ کو یقین دلایا تھا کہ ایران میں جنگ اور ممکنہ رجیم چینج ایک آسان عمل ہوگا، تاہم امریکی قیادت اب ان دعوؤں کو غیر حقیقت پسندانہ سمجھتی ہے۔ جے ڈی وینس نے مبینہ طور پر نیتن یاہو کو کہا کہ جو اہداف پیش کیے گئے تھے وہ حاصل نہیں ہو سکے۔

’اسرائیل کیلئے انتہائی مشکل شام‘؛ ایرانی حملوں سے دیمونا اور عراد میں بڑی تباہی، نیتن یاہو کا اعتراف

برطانوی میڈیا کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس گفتگو کے اگلے روز اسرائیلی میڈیا میں اس کال سے متعلق ایک مختلف خبر سامنے آئی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ وینس نے فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کے تشدد پر نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے اس خبر پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے یہ کہانی وینس کو بدنام کرنے کے لیے گھڑی گئی ہو۔

رپورٹس کے مطابق ایران کی صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی، جہاں Ali Khamenei کے حوالے سے دعوؤں کے باوجود ایرانی حکومت کی گرفت برقرار بتائی جا رہی ہے۔ مزید برآں جے ڈی وینس ایران سے متعلق کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ طور پر جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter