غزہ: اسرائیل نے رفح کراسنگ کو دو سال بعد پیدل آمدورفت کے لیے دوبارہ کھول دیا ہے، جو غزہ اور مصر کے درمیان اہم رابطے کا واحد راستہ ہے۔
آمدورفت اور سکیورٹی انتظامات
عرب میڈیا کے مطابق رفح کراسنگ کھولنے کے بعد سخت سکیورٹی چیک کیے جائیں گے۔ ان اقدامات کے تحت یومیہ تقریباً 150 فلسطینیوں کو غزہ سے باہر جانے اور تقریباً 50 فلسطینیوں کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔
اسرائیلی سکیورٹی اہلکار کے مطابق، رفح کراسنگ پر یورپی مانیٹرنگ ٹیمیں بھی پہنچ چکی ہیں تاکہ صورتحال پر نگرانی کی جا سکے۔ تاہم، کراسنگ کھلنے کے باوجود غیر ملکی صحافیوں کو ابھی تک غزہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
پس منظر
واضح رہے کہ اسرائیل نے مئی 2024 میں رفح کراسنگ پر قبضہ کرکے اسے آمدورفت کے لیے بند کر دیا تھا، جس کے بعد غزہ میں انسانی اور اقتصادی حالات میں نمایاں مشکلات پیدا ہو گئی تھیں۔ اس بندش کے دوران روزانہ کی بنیاد پر لوگوں کی نقل و حرکت شدید متاثر ہوئی اور ضروری اشیاء کی فراہمی محدود ہو گئی۔
فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کا منصوبہ، رفح کے ملبے پر ’انسانی ہمدردی کا شہر‘ بسانے کا اعلان
رفح کراسنگ کی دوبارہ کھولائی فلسطینی عوام کے لیے کچھ ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، لیکن سکیورٹی کی سختی اور صحافیوں کی پابندی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صورتحال ابھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ رفح کراسنگ کھولنے کا مقصد انسانی ہمدردی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی دباؤ کو کم کرنا بھی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی سکیورٹی خدشات بھی برقرار ہیں۔ یہ اقدام غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی اور محدود سفری آسانیاں یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔
