تل ابیب: اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے حال ہی میں ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ ایران کے اعلیٰ رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد ان کے ہر جانشین کو اسرائیل نشانہ بنائے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس مقصد کے لیے فوج کو ہائی الرٹ رکھا گیا ہے اور کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
بیان کی تفصیلات
کاتز نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم اور انہوں نے مل کر فوج کو ہدایت دی ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کے بعد کسی بھی جانشین کو نشانہ بنانے کے لیے تیار رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ اس جانشین کا نام کیا ہے یا اسے کس طرح چھپایا گیا ہے، اسرائیل ہر ممکن اقدام کرے گا تاکہ ایران کی قیادت پر دباؤ برقرار رہے۔
امریکی شراکت داری اور آپریشنز
اسرائیلی وزیر دفاع نے یہ بھی واضح کیا کہ اسرائیل، اپنے امریکی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف آپریشن جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق یہ کارروائیاں ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں کے تناظر میں کی جائیں گی۔
خطے پر ممکنہ اثرات
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں اور ایران-اسرائیل تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کر سکتے ہیں۔ ایران کی جانب سے ردعمل میں عسکری یا سیاسی اقدامات کے امکانات بھی موجود ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی اور توانائی کی مارکیٹوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ ایران کے سپریم لیڈر؟
ماہرین کے مطابق، اسرائیل کا یہ موقف واضح طور پر ایران کی قیادت کو دباؤ میں رکھنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس میں نہ صرف فوجی تیاری بلکہ سیاسی اور سفارتی دباؤ بھی شامل ہے۔ تاہم، ایسے اقدامات کے نتیجے میں خطے میں کسی بھی بڑی کشیدگی یا فوجی تصادم کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ اعلان عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن چکا ہے اور ایران-اسرائیل تعلقات میں مزید سنجیدہ موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
