ایران کے خلاف سخت اقدامات زیر غور، فوجی کارروائی کا بھی امکان: صدر ٹرمپ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے، جن میں فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے اور امریکی فوج اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔

latest urdu news

فلوریڈا سے واشنگٹن واپسی کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے معاملے پر امریکا کے پاس کئی مضبوط اور مؤثر آپشنز موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلے کسی جذباتی ردعمل کے تحت نہیں بلکہ قومی سلامتی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق امریکی عسکری قیادت بھی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور مختلف ممکنہ اقدامات کا تجزیہ جاری ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران ان کی مقرر کردہ ریڈ لائن کے قریب پہنچ چکا ہے، بلکہ بعض معاملات میں اسے عبور بھی کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ واقعات میں کچھ ایسے لوگ مارے گئے ہیں جنہیں نہیں مارا جانا چاہیے تھا، اور یہی بات امریکا کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ایسے اقدامات کو نظرانداز نہیں کر سکتا جو خطے کے امن اور انسانی جانوں کے لیے خطرہ بنیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران میں انٹرنیٹ کی بحالی یا آغاز کے حوالے سے بھی غور کیا جا رہا ہے، تاکہ وہاں کی صورتحال سے متعلق معلومات تک رسائی ممکن ہو سکے۔ اس ضمن میں انہوں نے معروف کاروباری شخصیت ایلون مسک سے بات کرنے کا عندیہ بھی دیا۔ صدر کے مطابق جدید ٹیکنالوجی اور دیگر ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے ایران کے اندر حالات پر نظر رکھنا ایک آپشن ہو سکتا ہے۔

طاقت کے نشے میں ڈوبے حکمرانوں کا انجام تاریخ دہراتی ہے:آیت اللّٰہ خامنہ ای

انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ امریکا ایران کے خلاف کسی بھی حد تک جا سکتا ہے اگر حالات مزید بگڑتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی اور سیاسی قیادت مل کر ایسے فیصلے کر رہی ہے جو امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مفاد میں ہوں۔ ٹرمپ کے مطابق امریکا کمزوری کا مظاہرہ نہیں کرے گا اور ضرورت پڑنے پر سخت اقدامات سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔

اسی گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے وینزویلا سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کی قیادت کے ساتھ بات چیت مثبت سمت میں جا رہی ہے اور اچھے نتائج کی توقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ منگل یا بدھ کو وینزویلا کی رہنما ماریا کورینا سے ملاقات متوقع ہے، جس میں اہم امور پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

مزید برآں صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ کے حوالے سے بھی اپنا مؤقف دہرایا اور کہا کہ گرین لینڈ کو امریکا کے ساتھ ڈیل کر لینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا گرین لینڈ کے حصول کے امکانات پر غور کر رہا ہے، کیونکہ یہ خطہ اسٹریٹجک لحاظ سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات عالمی سطح پر ایک بار پھر کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں، خاص طور پر ایران کے حوالے سے سخت مؤقف آنے والے دنوں میں اہم پیش رفت کا عندیہ دے رہا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter