امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں، تاہم ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال اب پہلے جیسی نہیں رہے گی۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی طور پر 45 دن کی جنگ بندی پر غور کیا جا رہا ہے، جس کے بعد ایک جامع معاہدے کی طرف پیش رفت متوقع ہے۔
ایرانی بحریہ خلیج فارس میں ایک نئے سیکیورٹی نظام کے قیام کی تیاری کر رہی ہے۔ حکام کے مطابق ایران کی نگرانی اور اجازت کے تحت گزشتہ 24 گھنٹوں میں 15 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔ ایرانی نیوی کمانڈر نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں امریکا اور اسرائیل کے لیے حالات پہلے جیسے نہیں ہوں گے۔
دوسری جانب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مختلف علاقائی ممالک ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سرگرم ہیں۔ پاکستان، ترکیہ اور مصر جنگ بندی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم اب تک کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
آبنائے ہرمز ضرور کھلے گی لیکن آپ کے لیے نہیں، ایرانی رکنِ پارلیمنٹ کا ٹرمپ کو پیغام
رپورٹس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے سے متعلق امریکی پیشکش ایک بار پھر مسترد کر دی ہے۔ ثالثی کرنے والے ممالک کے مطابق مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کی بحالی اور یورینیم افزودگی جیسے حساس معاملات شامل ہوں گے۔
مزید برآں، پس پردہ براہ راست پیغامات کے ذریعے بھی دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری ہیں، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں میں کسی بڑی پیش رفت کے امکانات کم ہیں۔ امریکی قیادت کی جانب سے ڈیڈ لائن دیے جانے کے باوجود معاملات تاحال حل طلب ہیں، جس کے باعث خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔
