ایرانی اعلان کے بعد امریکی پائلٹ کی تلاش، عوام کی بڑی تعداد میدان میں پہنچ گئی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایران میں گرائے گئے امریکی طیارے کے پائلٹ کی تلاش کے لیے حکومتی اعلان کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد متعلقہ علاقے کا رخ کرنے لگی، جس کے باعث سڑکوں پر غیر معمولی رش اور ٹریفک جام دیکھنے میں آیا۔

latest urdu news

انعامی رقم کا اعلان اور عوامی ردعمل

ایرانی حکام کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ امریکی پائلٹ کو تلاش کرنے یا اس کی گرفتاری میں مدد دینے والے افراد کو 10 ارب تومان (تقریباً 60 ہزار ڈالر) انعام دیا جائے گا۔ اس اعلان کے بعد بڑی تعداد میں شہری اس علاقے میں پہنچ گئے جہاں مبینہ طور پر F-15 fighter jet مار گرایا گیا تھا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق عوام جوق در جوق اس مقام کی طرف روانہ ہوئے، جس سے علاقے میں ٹریفک کا شدید دباؤ پیدا ہوگیا اور کئی مقامات پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔

متضاد دعوے اور صورتحال کی پیچیدگی

اس معاملے پر امریکا اور ایران کے بیانات میں واضح تضاد سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر Donald Trump پہلے ہی دعویٰ کر چکے ہیں کہ گرائے گئے طیارے کے پائلٹ کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے۔

تاہم ایرانی حکام، خصوصاً متعلقہ صوبے کے گورنر، اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر واقعی ریسکیو آپریشن ہوا ہوتا تو کم از کم ایک امریکی ہیلی کاپٹر کو علاقے میں لینڈ کرنا پڑتا، جو کہ ممکن نہیں ہوا۔

ایران میں گرنے والے ایف-15 کے آفیسر کی بحفاظت بازیابی، امریکی صدر کی تصدیق

مقامی حکام کا مؤقف

صوبائی گورنر کا کہنا ہے کہ جب طیارہ گرایا گیا تو اس کے بعد کچھ ہیلی کاپٹرز علاقے میں آئے، تاہم مقامی شہریوں کی جانب سے فائرنگ کے باعث وہ واپس چلے گئے۔ ان کے مطابق ایسی صورتحال میں کسی بھی قسم کا کامیاب ریسکیو آپریشن ممکن نہیں تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی دعوے حقیقت کے برعکس ہیں اور اس معاملے میں معلوماتی جنگ بھی جاری ہے، جہاں دونوں فریق اپنی اپنی مؤقف کو تقویت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خطے میں کشیدگی اور معلوماتی جنگ

ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران نہ صرف زمینی بلکہ معلوماتی سطح پر بھی مقابلہ جاری ہے۔ اس طرح کے متضاد بیانات عوام میں کنفیوژن پیدا کرتے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی مختلف دعوے اور ویڈیوز گردش کرتی رہتی ہیں۔

موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ خطے میں کشیدگی کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر بھی ردعمل بڑھ رہا ہے، جو کسی بھی وقت مزید پیچیدہ صورت اختیار کر سکتا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter