ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ یقین دہانی کرائی جائے کہ مستقبل میں دوبارہ تنازع شروع نہیں ہوگا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی صدر نے یہ بات انتونیو کوستا کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں کہی۔ انہوں نے اس موقع پر ایرانی عوام کے اتحاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں قوم کا یکجہتی کا مظاہرہ قابل تحسین ہے۔
اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی واضح کر چکے ہیں کہ ایران صرف عارضی جنگ بندی نہیں بلکہ اس تنازع کا مکمل اور دیرپا حل چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے براہ راست پیغامات موصول ہو رہے ہیں، تاہم باضابطہ مذاکرات کا سلسلہ شروع نہیں ہوا۔
ایران جنگ کے اثرات، عالمی ایئرلائنز کو اربوں ڈالر کا نقصان، ٹکٹ مہنگے ہونے کا خدشہ
انہوں نے مزید بتایا کہ سکیورٹی امور پر محدود نوعیت کی بات چیت پاکستان کے ذریعے جاری ہے۔ دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہا تو وہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں۔
