امریکا جنگ میں شدت چاہتا ہے تو ایران بھی طویل مقابلے کے لیے تیار ہے: عباس عراقچی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ نے خطے کی صورتحال، سعودی عرب کے ساتھ رابطوں اور امریکی حملوں پر سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔

latest urdu news

ایران اور سعودی عرب کے درمیان رابطے

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ وہ موجودہ کشیدہ صورتحال کے دوران اپنے سعودی ہم منصب کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان حالیہ گفتگو میں خطے کی سیکیورٹی اور بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

عراقچی نے بتایا کہ سعودی حکام نے ایران کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی سرزمین کسی بھی صورت میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور علاقائی ممالک اس بحران کے پھیلاؤ سے متعلق تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایران اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ برسوں میں تعلقات میں بہتری آئی ہے، خاص طور پر سفارتی روابط کی بحالی کے بعد دونوں ممالک خطے میں استحکام کے لیے رابطے برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکا اور اسرائیل پر تنقید

ایرانی وزیرِ خارجہ نے اپنی گفتگو میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو نے اپنی جنگی حکمتِ عملی کے ذریعے امریکا کو بھی اس تنازع میں الجھا دیا ہے۔

عراقچی کے مطابق جاری کشیدگی کے صرف ایک ہفتے کے دوران امریکا کو تقریباً 100 ارب ڈالر کے اخراجات برداشت کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکا اس جنگ میں مزید شدت لانا چاہتا ہے تو ایران نے بھی طویل عرصے تک مقابلہ کرنے کی تیاری کر رکھی ہے۔

پڑوسی ممالک پر حملے نہیں کیے جائیں گے، ثالثی کوششوں میں تعاون تیار:ایرانی صدر

ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

قشم جزیرے پر امریکی حملے کی مذمت

عباس عراقچی نے جزیرہ قشم پر قائم پانی صاف کرنے والے پلانٹ پر امریکی حملے کو سخت الفاظ میں ایک جرم قرار دیا۔ ان کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں کم از کم 30 دیہات میں پانی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جس سے مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ شہری اور بنیادی انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنانا انتہائی خطرناک اقدام ہے، جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی کارروائیاں نہ صرف انسانی بحران کو جنم دیتی ہیں بلکہ خطے میں عدم استحکام کو بھی بڑھاتی ہیں۔

موجودہ صورتحال میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور عالمی برادری اس بحران کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دے رہی ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter