ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ ایران خطے میں دوستانہ تعلقات چاہتا ہے، تاہم اپنی سلامتی اور دفاع کے معاملے پر کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
ایران پر دباؤ بڑھانے کے نتائج کی وارننگ
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر دباؤ بڑھایا گیا تو اس کا ردعمل بھی اسی شدت کے ساتھ سامنے آئے گا۔ تہران میں جاری کشیدہ علاقائی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی قسم کی دھونس، دھمکی یا جارحیت کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا۔
صدر پزشکیان کے مطابق ایران کی پالیسی واضح ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دشمن ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کرے گا تو اس کا جواب بھی اسی سطح پر دیا جائے گا۔
جارحیت کے سامنے جھکنے سے انکار
اپنے بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ ایران ناانصافی اور جارحانہ اقدامات کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔ ان کے مطابق ایرانی عوام اور ریاست ہر طرح کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کے مخالفین جو مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ حقیقت میں کبھی پورے نہیں ہوں گے۔ ان کے بقول ایران ایسی حکمت عملی اختیار کرے گا کہ دشمن کے منصوبے خود اس کے لیے ڈراؤنے خواب بن جائیں گے۔
خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات کا مؤقف
ایرانی صدر نے اس موقع پر یہ بھی واضح کیا کہ ایران خطے کے ممالک کے ساتھ دوستانہ اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران علاقائی ریاستوں کے ساتھ تعاون اور استحکام کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
ایران اپنی جوہری تنصیبات کو مزید طاقت کے ساتھ دوبارہ تعمیر کرے گا: صدر مسعود پزشکیان
تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھنے کی خواہش کا مطلب یہ نہیں کہ ایران اپنے دفاع کے حق سے دستبردار ہو جائے گا۔
امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
صدر پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران نے حالیہ کارروائیوں میں خطے کے دوست اور ہمسایہ ممالک کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ صرف امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو ہدف بنایا ہے۔
ان کے مطابق ایران نے خطے میں موجود امریکی فوجی سہولیات اور تنصیبات پر حملے کیے، جنہیں وہ ایران کے خلاف ممکنہ خطرات کے تناظر میں دیکھتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے، جبکہ عالمی برادری اس بحران کے سفارتی حل اور خطے میں مزید کشیدگی سے بچنے کی ضرورت پر زور دے رہی ہے۔
