ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق متوقع مذاکرات سے جڑی تمام قیاس آرائیاں ختم ہو گئی ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے حکام نے باضابطہ طور پر تصدیق کر دی ہے کہ یہ مذاکرات جمعے کو عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہوں گے۔ اس اعلان کے بعد سفارتی حلقوں میں پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال دم توڑ گئی ہے اور عالمی برادری کی نظریں اب ان مذاکرات کے ممکنہ نتائج پر مرکوز ہو گئی ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں واضح طور پر بتایا کہ امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات طے شدہ شیڈول کے مطابق جمعے کی صبح 10 بجے مسقط میں شروع ہوں گے۔ انہوں نے اس موقع پر عمانی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے لیے تمام ضروری انتظامات احسن طریقے سے مکمل کیے گئے ہیں۔ عباس عراقچی کے مطابق عمان نے ایک بار پھر ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کیا ہے۔
دوسری جانب امریکا کی جانب سے بھی مذاکرات کی تصدیق سامنے آ گئی ہے۔ امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دو سینئر امریکی عہدیداروں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایران اور امریکا کے درمیان بات چیت جمعے کو عمان میں ہی ہوگی۔ امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن سفارتی حل پر یقین رکھتا ہے اور مذاکرات کو ایک اہم موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے، تاہم کسی حتمی نتیجے کے بارے میں فی الحال قیاس آرائی سے گریز کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ایران اور امریکا کے جوہری مذاکرات جمعے ہی کو ترکیے کے شہر استنبول میں شیڈول تھے۔ تاہم بعد ازاں ایران کی جانب سے مذاکرات کے مقام کو تبدیل کرنے کا مطالبہ سامنے آیا، جس کے بعد بات چیت کو استنبول سے مسقط منتقل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ایران کا مؤقف تھا کہ عمان ماضی میں بھی ایران اور مغربی ممالک کے درمیان رابطوں میں ایک غیر جانبدار اور مؤثر کردار ادا کرتا رہا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی امریکی پرچم والے جہاز کو روکنے کی کارروائی
ایرانی حکام نے مذاکرات کے حوالے سے مزید مطالبات بھی کیے تھے، جن میں علاقائی شراکت داروں کو مذاکرات میں شامل نہ کرنا اور بات چیت کو صرف اور صرف جوہری معاملات تک محدود رکھنا شامل ہے۔ تاہم ان مطالبات کو امریکا کی جانب سے تسلیم یا مسترد کیے جانے کے بارے میں فی الحال کوئی باضابطہ تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مسقط میں ہونے والے یہ مذاکرات نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ خطے میں پہلے ہی کشیدگی موجود ہے اور جوہری معاہدے سے متعلق کسی پیش رفت کو عالمی سطح پر نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔
جمعے کو ہونے والی یہ بات چیت اس بات کا تعین کر سکتی ہے کہ آیا دونوں ممالک ایک بار پھر سفارت کاری کے ذریعے اختلافات کم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔ عالمی برادری کو امید ہے کہ یہ مذاکرات کشیدگی میں کمی اور خطے میں استحکام کی جانب ایک مثبت قدم ثابت ہوں گے۔
