ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے جنگ روکنے کے لیے چھ اہم اسٹریٹیجک شرائط پیش کر دی ہیں، تاہم اس کے ساتھ ہی امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی خبروں کی تردید بھی کی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں فوری جنگ بندی کا امکان کم ہے اور پیش رفت مرحلہ وار طریقے سے ہو رہی ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق حالیہ دنوں میں بعض دوست ممالک کے ذریعے پیغامات موصول ہوئے ہیں جن میں کہا گیا کہ امریکا جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات چاہتا ہے، تاہم ایران نے اپنے اصولی مؤقف کے مطابق ان پیغامات کا جواب دیا ہے۔
ایک سیکیورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مختلف علاقائی فریقین اور ثالثوں نے جنگ بندی کے لیے تجاویز پیش کیں، لیکن ایران نے ان پر عمل درآمد کے لیے واضح شرائط عائد کی ہیں جنہیں سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔
ان شرائط میں سب سے اہم یہ ہے کہ مستقبل میں جنگ دوبارہ شروع نہ ہونے کی ٹھوس ضمانت دی جائے۔ دوسری شرط کے طور پر خطے میں امریکی فوجی اڈوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جبکہ تیسری شرط میں جارح قوتوں کی پسپائی اور ایران کو ہرجانے کی ادائیگی شامل ہے۔
اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے ممکنہ مذاکرات، اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ
مزید شرائط کے مطابق خطے کے تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کے لیے نئے قانونی نظام کا نفاذ، اور ایران مخالف میڈیا نیٹ ورکس کے خلاف قانونی کارروائی اور ان کی ملک بدری شامل ہیں۔
ایرانی میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایران ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت صبر و تحمل سے آگے بڑھ رہا ہے۔ حکام کے مطابق دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو نقصان پہنچایا جا چکا ہے اور ایران کو فضائی برتری حاصل ہو رہی ہے، جس کے باعث فی الحال جنگ بندی کی فوری ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی۔
بیانات میں مزید کہا گیا کہ جب تک مخالف قوتوں کو مکمل جواب نہیں دیا جاتا اور انہیں “سبق” نہیں سکھایا جاتا، کارروائیاں جاری رہیں گی۔
