امریکا کی مختلف ریاستوں میں امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ سے ایک شہری کی ہلاکت کے بعد شدید احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔ واقعے نے ملک بھر میں امیگریشن پالیسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ ریاست منی سوٹا کے شہر منی ایپولس میں پیش آیا، جہاں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ایک ایجنٹ کی فائرنگ سے 37 سالہ شہری ایلکس جیفری پریٹی ہلاک ہوگیا۔ واقعے کے بعد مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
ہلاکت کی خبر سامنے آتے ہی نیویارک، منی ایپولس اور دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔ نیویارک میں شدید سرد موسم کے باوجود ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور ICE کے خلاف نعرے بازی کی۔ مین ہٹن میں مظاہرین نے امیگریشن ایجنسی پر طاقت کے بے جا استعمال کا الزام عائد کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ امیگریشن ایجنٹس کی جانب سے شہریوں کے خلاف مہلک طاقت کا استعمال ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور امیگریشن پالیسیوں میں فوری اصلاحات متعارف کرائی جائیں۔
امریکی ریاست منی سوٹا میں امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ، ایک اور ہلاکت کے بعد کشیدگی
واضح رہے کہ منی ایپولس میں رواں ماہ امیگریشن ایجنٹس کی فائرنگ کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل 7 جنوری کو بھی فائرنگ کے ایک واقعے میں 37 سالہ خاتون رینی گڈ ہلاک ہوچکی ہیں، جس کے بعد سے مقامی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات نہ صرف امیگریشن نظام پر سوالات اٹھاتے ہیں بلکہ شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔
