سعودی عرب میں توانائی کی تنصیبات، ہوائی اڈوں اور فوجی اہداف کو نشانہ بنانے سے متعلق حوثیوں کے دعوؤں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے تیل کی رسد اور اہم تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے خدشات کو دوبارہ بڑھا دیا ہے۔
برینٹ خام تیل 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگیا
رپورٹس کے مطابق عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت میں 17 سینٹ، یعنی 0.15 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 110.03 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔
اس سے قبل کاروباری سیشن کے دوران سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع سمیٹنے کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت میں 3 ڈالر سے زیادہ کمی ہوئی تھی۔ تاہم، تازہ پیش رفت کے بعد قیمت میں دوبارہ معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت بھی بڑھ گئی۔ رپورٹ کے مطابق اس کی قیمت میں 1.68 ڈالر، یعنی 1.66 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 103.09 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
حوثیوں کا سعودی عرب میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
حوثیوں نے پیر کے روز دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی عرب میں توانائی کی تنصیبات، ہوائی اڈوں اور فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ ان کے بیان کے مطابق مبینہ اہداف میں ینبع میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی ایک تنصیب، شیبہ آئل فیلڈ، ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابہا ایئرپورٹ شامل ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ حوثیوں نے ایک فوجی تربیتی کیمپ پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم، سعودی حکام نے ان حملوں کے دعوؤں کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی، اس لیے ان کی نوعیت اور ممکنہ نقصانات کے بارے میں آزادانہ طور پر تصدیق شدہ تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔
مشرق وسطیٰ کی کشیدگی سے تیل کی منڈی متاثر
سعودی عرب عالمی توانائی کی منڈی میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس لیے اس کی توانائی کی تنصیبات کو لاحق خطرات عالمی تیل کی رسد کے بارے میں خدشات پیدا کر سکتے ہیں۔ سرمایہ کار عموماً ایسے حالات میں ممکنہ رکاوٹوں اور سپلائی میں کمی کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتوں کا جائزہ لیتے ہیں۔
تاہم، خام تیل کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی صرف سکیورٹی صورت حال سے نہیں ہوتی، بلکہ طلب و رسد، سرمایہ کاروں کی سرگرمیوں اور عالمی معاشی حالات بھی اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
تازہ اضافے کے باوجود تیل کی قیمتوں کی آئندہ سمت کا انحصار خطے میں ہونے والی پیش رفت، حملوں سے متعلق تصدیق شدہ معلومات اور عالمی منڈی میں رسد کی صورت حال پر ہوگا۔
