مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال کے باعث عالمی توانائی کی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے اور خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر 117 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں، جو جولائی 2022 کے بعد بلند ترین سطح سمجھی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق ایران سے جڑی حالیہ کشیدگی نے عالمی تیل منڈی کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت میں تقریباً 29 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی قیمت بڑھ کر 117 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اسی طرح برینٹ خام تیل کی قیمت میں بھی تقریباً 27 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ 117.6 ڈالر فی بیرل کی سطح تک جا پہنچی ہے۔
جنگ جاری رہی تو تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے:قطر
تیل کی قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی فوج کے ترجمان نے مخالف ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دشمن ممالک 200 ڈالر فی بیرل تک تیل کی قیمت برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو وہ اس تنازع کو جاری رکھ سکتے ہیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں اور ممکن ہے کہ 200 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ جائیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں دنیا بھر میں مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہو سکتی ہے اور عالمی سپلائی چین بھی شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
