فرانس نے اپنے جوہری ہتھیاروں کی تعداد بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے۔ فرانسیسی صدر کا کہنا ہے کہ یورپی اتحادیوں کے لیے امریکی سکیورٹی ضمانتوں سے متعلق صورتحال غیر یقینی ہوتی جا رہی ہے، اسی تناظر میں فرانس اپنی دفاعی حکمتِ عملی کا ازسرِنو جائزہ لے رہا ہے۔
میکرون کے مطابق بدلتے ہوئے عالمی حالات اور یورپ کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر دفاعی صلاحیت میں اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
دوسری جانب روسی صدر نے سعودی ولی عہد سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق فریقین نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور استحکام کی ضرورت پر زور دیا۔
اس سے قبل کریملن نے ایرانی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطوں کی تصدیق کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ امریکا اور اسرائیل خطے میں تعلقات کی بحالی کے عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایرانی جوہری تنصیبات کو نقصان کی تصدیق نہیں:انٹرنیشنل اٹامک انجری
ادھر Germany نے ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں شامل نہ ہونے کا اعلان کیا ہے، جبکہ NATO نے بھی ایران جنگ میں شمولیت سے انکار کر دیا ہے۔ یورپی ممالک کی جانب سے محتاط رویہ اختیار کیے جانے کو عالمی سفارتی توازن کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
