برطانیہ کے سابق سینئر نیٹو کمانڈر سر رچرڈ شیریف نے خبردار کیا ہے کہ دنیا تیسری عالمی جنگ کے آغاز کے مراحل سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بیان ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر جوابی کارروائیوں کے تناظر میں دیا۔
عالمی کشیدگی اور خطرات
سر رچرڈ شیریف نے برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ بطور سابق فوجی، وہ یہ بات بغیر سوچے سمجھے نہیں کہہ رہے بلکہ انہیں حقیقی خدشہ ہے کہ موجودہ حالات عالمی جنگ کے آثار ظاہر کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "جنگ عموماً ایک مخصوص مقام پر شروع ہوتی ہے، لیکن اس کے اثرات اکثر دنیا کے دیگر حصوں میں بھی پھیل جاتے ہیں۔”
یہ بیان موجودہ ایران-امریکہ-اسرائیل کشیدگی کے پس منظر میں آیا ہے، جہاں خطے میں فوجی کارروائیوں اور فضائی حملوں کے بعد عالمی طاقتوں کے درمیان تناؤ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے حالات میں خطے کی چھوٹی تناؤ زدہ صورتحال بھی بڑے عالمی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جس سے بین الاقوامی سطح پر خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
سابق فوجی کا نقطہ نظر
سر رچرڈ نے یہ بھی واضح کیا کہ عالمی سیاسی اور فوجی حالات کا بغور جائزہ لینے کے بعد ان کا یہ موقف ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ عالمی طاقتیں اور عسکری اتحاد تیزی سے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر محتاط اقدامات کریں تاکہ کسی غیر متوقع کشیدگی کو بڑے پیمانے پر جنگ میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔
سابق نیٹو کمانڈر کے بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ ایران-امریکہ-اسرائیل بحران صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر مالی، سیاسی اور فوجی اثرات پیدا کرنے والا معاملہ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق اگر عالمی برادری فوری اور مربوط اقدامات نہ کرے تو خطے میں جاری کشیدگی عالمی سطح پر بڑے بحران میں تبدیل ہونے کا خطرہ رکھتی ہے۔
