واشنگٹن: امریکا کے صدر Donald Trump نے ایران میں تباہ ہونے والے ایف-15 طیارے کے ویپن آفیسر کو بحفاظت بازیاب کرانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوج نے ایک بڑے اور پیچیدہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے ذریعے اپنے اہلکار کو محفوظ نکال لیا ہے۔
ریسکیو آپریشن کی تفصیلات
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران امریکی فوج نے تاریخ کے اہم سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز میں سے ایک انجام دیا۔ ان کے مطابق ایک بہادر کریو ممبر، جو ایک کرنل بھی ہیں، کو دشمن کے زیر اثر علاقے سے نکالا گیا اور اب وہ مکمل طور پر محفوظ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مذکورہ آفیسر ایران کے پہاڑی اور خطرناک علاقے میں موجود تھا جہاں دشمن اس کا تعاقب کر رہے تھے، تاہم امریکی فوج مسلسل اس کی لوکیشن پر نظر رکھے ہوئے تھی اور اس کی بحفاظت واپسی کے لیے منصوبہ بندی جاری تھی۔
جدید ہتھیاروں اور فضائی طاقت کا استعمال
Donald Trump کے مطابق ان کی ہدایات پر امریکی فوج نے درجنوں طیارے تعینات کیے جو جدید اور مہلک ہتھیاروں سے لیس تھے۔ اس کارروائی کا مقصد نہ صرف پھنسے ہوئے اہلکار کو نکالنا تھا بلکہ اس کے اردگرد کے خطرات کو بھی کم کرنا تھا۔
طیارہ گرنے کے باوجود ایران سے مذاکرات جاری رہیں گے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
انہوں نے کہا کہ آپریشن کے دوران آفیسر زخمی ضرور ہوا، تاہم اس کی حالت خطرے سے باہر ہے اور وہ جلد صحت یاب ہو جائے گا۔
دو پائلٹس کی کامیاب بازیابی کا دعویٰ
صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ فوجی تاریخ میں پہلی بار دو امریکی پائلٹس کو الگ الگ دشمن کے گہرے علاقے سے بحفاظت نکالا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ کامیابی امریکی فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور مؤثر حکمت عملی کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکا کبھی بھی اپنے کسی فوجی کو تنہا نہیں چھوڑتا اور ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ اپنے اہلکاروں کو محفوظ واپس لایا جائے۔
فضائی برتری کا دعویٰ
اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ دونوں ریسکیو آپریشنز بغیر کسی امریکی جانی نقصان کے مکمل کیے گئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا نے ایرانی فضاؤں میں مکمل فضائی برتری حاصل کر لی ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ضروری ہوتی ہے، کیونکہ جنگی حالات میں معلومات کا بہاؤ محدود اور بعض اوقات متضاد بھی ہو سکتا ہے۔
