اردوان کی اسرائیلی قانون پر سخت تنقید: “فلسطینیوں کے لیے سزائے موت ہٹلر پالیسیوں جیسی”

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیلی پارلیمنٹ کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کے لیے خصوصی سزائے موت کے قانون پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے ہٹلر کے دور کی پالیسیوں سے مشابہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف متنازع ہے بلکہ خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

latest urdu news

اسرائیلی قانون پر شدید اعتراض

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر اردوان نے کہا کہ فلسطینیوں کے لیے مخصوص سزائے موت کا قانون نسلی امتیاز کی ایک واضح مثال ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا اس قانون اور ماضی میں یہودیوں کے خلاف اختیار کی گئی پالیسیوں میں کوئی بنیادی فرق موجود ہے یا نہیں۔

ان کے مطابق اس نوعیت کے اقدامات سیاسی دباؤ اور طاقت کے استعمال کو قانونی شکل دینے کے مترادف ہیں، جو انسانی حقوق کے اصولوں سے متصادم ہیں۔

نسلی امتیاز سے موازنہ

اردوان نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسرائیل میں ایسی پالیسیاں نافذ کی جا رہی ہیں جو 1994 میں جنوبی افریقا میں ختم کیے گئے نسلی امتیاز (اپارتھائیڈ) کے نظام سے بھی بدتر نظر آتی ہیں۔ ان کے مطابق کسی مخصوص قوم یا گروہ کے لیے علیحدہ قوانین بنانا عالمی انسانی حقوق کے معیار کے خلاف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صرف فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کا نفاذ امتیازی سلوک کو تقویت دیتا ہے، جس سے خطے میں نفرت اور عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔

خطے میں انسانی بحران پر تشویش

ترک صدر نے مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں خطہ مسلسل تنازعات اور جنگوں کی لپیٹ میں رہا ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کو اٹھانا پڑا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ: نیتن یاہو کے بیانات پر ترکی کا سخت ردعمل

انہوں نے کہا کہ مختلف تنازعات میں بڑی تعداد میں شہری ہلاک اور بے گھر ہوئے ہیں، اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ ان کے بقول ایک تنازع ختم ہونے سے پہلے دوسرا شروع ہو جاتا ہے، جس سے انسانی بحران مزید شدت اختیار کر لیتا ہے۔

علاقائی تنازعات اور اثرات

اردوان نے شام، لبنان اور ایران سمیت خطے کے دیگر تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان تمام حالات میں عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنگی کارروائیوں کے اثرات براہِ راست انسانی زندگیوں پر پڑتے ہیں، اور اس کا حل صرف پُرامن سفارت کاری میں ہے۔

مجموعی تجزیہ

ترک صدر کے بیانات ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی اور عسکری کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ ایسے بیانات اور اقدامات نہ صرف سفارتی تعلقات کو متاثر کرتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین سے متعلق بحث کو بھی جنم دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں کشیدگی کم کرنے اور پائیدار امن کے لیے مذاکرات اور سفارتی کوششوں کو فروغ دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter