ایپسٹین فائلز پر بھارت میں سیاسی ہلچل، کانگریس کی مودی پر شدید تنقید

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکا میں بدنام زمانہ سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق جاری کی گئی تازہ دستاویزات نے بھارت کی سیاست میں ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے سامنے آنے والی ایپسٹین فائلز میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا نام شامل ہونے کے بعد اپوزیشن جماعت کانگریس نے حکومت پر سخت حملے شروع کر دیے ہیں۔ اس معاملے کو مزید متنازع بنانے کے لیے کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) سے تیار کی گئی ایک طنزیہ ویڈیو بھی شیئر کی ہے۔

latest urdu news

کانگریس کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی ویڈیو میں اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے نریندر مودی اور جیفری ایپسٹین کو گفتگو کرتے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو کے مطابق مودی، ایپسٹین سے مشورہ لیتے نظر آتے ہیں، جبکہ طنزیہ انداز میں انہیں اسرائیل میں رقص کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے، جس کا مقصد مبینہ طور پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنا بتایا گیا ہے۔ کانگریس نے ویڈیو کے کیپشن میں مودی کو ’کمپرومائزڈ‘ قرار دیتے ہوئے ان کی ساکھ پر سوالات اٹھائے ہیں۔

کانگریس رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائلز میں موجود ای میلز سے ظاہر ہوتا ہے کہ مودی اور ایپسٹین کے درمیان رابطہ رہا ہے۔ ان کے مطابق ان ای میلز میں مودی کے اسرائیل کے دورے کا ذکر بھی موجود ہے، جسے ایپسٹین نے کامیاب قرار دیا۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ محض سیاسی نہیں بلکہ قومی وقار اور بین الاقوامی ساکھ سے جڑا ہوا ہے، جس پر وزیراعظم کو قوم کے سامنے جواب دینا چاہیے۔

ایپسٹن فائلز: طاقت، راز اور امریکی سیاست کا سیاہ باب

اپوزیشن کے مطابق نریندر مودی نے جون 2017 میں امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی، اس کے بعد جولائی 2017 میں اسرائیل کا دورہ کیا، جبکہ ایپسٹین کی ای میل مودی کے اسرائیل کے دورے کے چند دن بعد لکھی گئی۔ کانگریس نے ان واقعات کو جوڑتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ مودی نے ایپسٹین سے کس نوعیت کا مشورہ لیا، اسرائیل میں ان سرگرمیوں کا مقصد کیا تھا اور اس سے امریکا یا ٹرمپ کو کیا فائدہ پہنچا۔

دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیراعظم مودی کا جولائی 2017 میں اسرائیل کا سرکاری دورہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے، تاہم ایپسٹین فائلز میں موجود ای میل میں کیے گئے دیگر تمام مبہم اور غیر واضح حوالے ایک سزا یافتہ مجرم کے بے بنیاد اور فضول خیالات پر مبنی ہیں۔

حکومتی مؤقف کے باوجود کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم مودی اس معاملے پر خاموشی توڑیں اور قوم کو واضح جواب دیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ تنازع آنے والے دنوں میں بھارتی سیاست میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان محاذ آرائی میں اضافہ متوقع ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter