کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے ملک کی دفاعی حکمت عملی میں اہم تبدیلیوں کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب وہ دور گزر چکا جب کینیڈا اپنے دفاعی اخراجات کا بڑا حصہ امریکا پر خرچ کرتا تھا۔ ان کے مطابق موجودہ عالمی حالات میں کینیڈا کو اپنی دفاعی خودمختاری پر زیادہ توجہ دینا ہوگی۔
دفاعی اخراجات اور امریکا پر انحصار
کینیڈین میڈیا کے مطابق مونٹریال میں لبرل پارٹی کے قومی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مارک کارنی نے کہا کہ ماضی میں کینیڈا کے ہر دفاعی ڈالر میں سے تقریباً 70 سینٹ امریکا کو جاتا تھا، تاہم اب یہ پالیسی تبدیل کی جا رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کینیڈا اپنی فوجی ضروریات کے لیے زیادہ انحصار مقامی وسائل اور صنعت پر کرے گا، تاکہ دفاعی نظام کو خود کفیل بنایا جا سکے۔
Canadian PM Mark Carney:
The days of our military sending 70 cents of every dollar to the United States are over. pic.twitter.com/hzdkBA9n8M
— Clash Report (@clashreport) April 12, 2026
بدلتی عالمی صورتحال
وزیراعظم مارک کارنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ عالمی حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، اور ایسے میں پرانے اتحادوں پر مکمل انحصار کرنا ایک مؤثر حکمت عملی نہیں رہی۔
ان کے مطابق جغرافیائی سیاست (geopolitics) میں تیزی سے آنے والی تبدیلیاں ممالک کو اپنی دفاعی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر رہی ہیں، اور کینیڈا بھی اسی تناظر میں نئے فیصلے کر رہا ہے۔
ایران کا اعلان: آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر نیا ٹول نظام نافذ کرنے کا منصوبہ
مقامی دفاعی صنعت کو فروغ
کارنی نے اس بات پر زور دیا کہ کینیڈا اپنی مقامی دفاعی صنعت میں سرمایہ کاری بڑھائے گا۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف قومی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے بلکہ معیشت کو بھی فائدہ پہنچانا ہے، کیونکہ اس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی ہوگی۔
خودمختاری اور اسٹریٹجک توازن
انہوں نے کہا کہ دفاعی خودمختاری کینیڈا کی نئی پالیسی کا مرکزی نکتہ ہوگی۔ امریکا کے ساتھ تعلقات برقرار رہیں گے، لیکن اب انحصار کم کرتے ہوئے ایک متوازن اور خودمختار حکمت عملی اپنائی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق کینیڈا کا یہ فیصلہ عالمی سطح پر بدلتی ہوئی طاقت کی سیاست کا عکاس ہے، جہاں ممالک اپنی سلامتی کے لیے زیادہ خود انحصاری کی طرف جا رہے ہیں۔
یہ پالیسی نہ صرف کینیڈا کے دفاعی ڈھانچے کو تبدیل کرے گی بلکہ شمالی امریکا اور نیٹو جیسے اتحادوں میں بھی اس کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔
