کینیڈا نے مغربی کنارے سے متعلق اسرائیل کے حالیہ فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیا ہے۔
کینیڈین وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اس نوعیت کے اقدامات نہ صرف عالمی قانون کی خلاف ورزی ہیں بلکہ خطے میں قیامِ امن کے امکانات کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں اور ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے تصور کو کمزور کرتے ہیں۔
بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مغربی کنارے سے متعلق اپنا فیصلہ فوری طور پر واپس لے اور آبادکاریوں میں مزید توسیع روک دے۔ کینیڈا نے زور دیا کہ دو ریاستی حل ہی مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکا اور برطانیہ بھی اسرائیلی اقدام پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کی مخالفت کی
دوسری جانب پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک نے بھی مشترکہ بیان میں اسرائیلی اقدامات کی شدید مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کا کوئی حقِ خودمختاری نہیں اور حالیہ اقدامات مغربی کنارے کے غیر قانونی الحاق اور فلسطینیوں کی بے دخلی کی کوششوں کو تیز کر رہے ہیں۔ مسلم ممالک نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو ایسے اقدامات سے باز رکھنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔
