سی 32 اے طیارہ کیوں خاص؟ امریکی نائب صدر کے سفر کیلئے منفرد سہولیات سے لیس

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایران سے مذاکرات کیلئے پاکستان آنے والے امریکی وفد نے جس طیارے میں سفر کیا، وہ Boeing C-32A ہے، جو خاص طور پر اعلیٰ امریکی حکام کے سفر کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ یہ طیارہ عام کمرشل جہاز نہیں بلکہ خصوصی حکومتی اور سفارتی مشنز کیلئے تیار کیا گیا ہے۔

latest urdu news

یہ طیارہ بنیادی طور پر Boeing 757 کا جدید اور تبدیل شدہ ورژن ہے، جسے 1998 میں امریکی فضائیہ میں شامل کیا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد وی آئی پی ٹرانسپورٹ، اسپیشل آپریشنز اور اعلیٰ سطحی سرکاری وفود کو محفوظ اور آرام دہ سفر فراہم کرنا ہے۔

سی 32 اے طیارہ امریکی نائب صدر کے علاوہ خاتون اول، وزیر خارجہ، کابینہ اراکین اور کانگریس کے اہم ارکان کے سفر کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں جدید مواصلاتی نظام نصب ہوتا ہے، جس کے ذریعے دورانِ پرواز بھی اہم سرکاری امور انجام دیے جا سکتے ہیں۔

اسلام آباد میں اہم سفارتی پیش رفت: ایران کا اعلیٰ وفد امریکا سے مذاکرات کیلئے پاکستان پہنچ گیا

دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض مواقع پر یہ طیارہ VC-25A (ایئر فورس ون) کے متبادل کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے، خاص طور پر جب صدر کے مرکزی طیارے کی دستیابی ممکن نہ ہو۔

یہ طیارہ نہ صرف آرام دہ نشستوں اور خصوصی سیکیورٹی فیچرز سے لیس ہوتا ہے بلکہ اسے ایک اڑتا ہوا کمانڈ سینٹر بھی کہا جاتا ہے، جو حساس سفارتی اور حکومتی مشنز کیلئے انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter