آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے مقاصد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ابتدائی اہداف حاصل ہو چکے ہیں تو یہ واضح نہیں کہ مزید کیا حاصل کرنا باقی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جنگ کے آخری مرحلے کے بارے میں کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔ ان کے مطابق یہ بھی غیر واضح ہے کہ اس تنازع کا انجام کیا ہوگا اور اسے کس مقام پر ختم کیا جائے گا۔
انتھونی البانیز نے خبردار کیا کہ اگر جنگ طویل ہوتی گئی تو اس کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جتنی دیر یہ تنازع جاری رہے گا، اتنا ہی عالمی اقتصادی استحکام متاثر ہوگا۔
ایران جنگ سے امریکا کو روزانہ دو ارب ڈالر نقصان، عوامی قرضوں میں اضافہ
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کی جانب سے ابتدا میں جو اسٹریٹجک مقاصد بیان کیے گئے تھے، ان میں سے اکثر حاصل کیے جا چکے ہیں۔ اس کے باوجود جنگ کا جاری رہنا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
آسٹریلوی وزیرِ اعظم نے زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کشیدگی میں کمی لانے کی کوشش کی جائے اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جائے۔
