ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای پر کسی بھی قسم کا حملہ مکمل جنگ کا سبب بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم لیڈر کے خلاف جارحیت دراصل پوری ایرانی قوم کے خلاف اعلانِ جنگ تصور کی جائے گی، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
یہ بیان ایرانی صدر نے اسرائیل کے لیے امریکا کے سابق سفیر کی جانب سے کیے گئے اس دعوے پر ردعمل میں دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ہفتوں میں ایران کے سپریم لیڈر کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے بیانات خطے میں کشیدگی کو ہوا دینے کے مترادف ہیں اور عالمی امن کے لیے شدید خطرہ بن سکتے ہیں۔
ایرانی صدر نے امریکا اور اس کے اتحادیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام کو درپیش معاشی مشکلات اور روزمرہ کی پریشانیاں طویل عرصے سے عائد غیر انسانی پابندیوں کا نتیجہ ہیں۔ ان کے مطابق یہ پابندیاں نہ صرف ایران کی معیشت کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ عام شہریوں کی زندگیوں کو بھی مشکل بنا رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران ہمیشہ امن کا خواہاں رہا ہے، مگر اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور قیادت کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم لیڈر کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کے نتائج صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
ایران میں انٹرنیٹ سروسز بحال کرنے کا اعلان، پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل میں امریکا کے سابق سفیر ڈین شپیرو نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ہفتے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس بیان کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی صدر کا یہ سخت موقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے، جبکہ عالمی طاقتوں کے لیے یہ صورتحال ایک سنجیدہ سفارتی امتحان بن چکی ہے۔
