امریکہ، اسرائیل اور ایران کے حملوں کے بعد ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مندی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے حالیہ حملوں کے بعد ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مسلسل تیسرے روز مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ سرمایہ کار عالمی سیاسی اور فوجی کشیدگی کے باعث محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں، جس کے اثرات براہِ راست پاکستان اور دیگر ایشیائی ممالک کی مارکیٹوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔

latest urdu news

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی صورتحال

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کے ہنڈریڈ انڈیکس میں کاروبار کے آغاز پر دو ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔ تاہم بعد میں مارکیٹ نے کچھ حد تک بحالی دکھائی اور 100 انڈیکس میں 381 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد یہ 157,514 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال اور سیاسی کشیدگی کے اثرات مقامی سرمایہ کاروں کی جذباتی سرمایہ کاری پر واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔

دیگر ایشیائی مارکیٹس

ایشیا کی دیگر اہم مارکیٹس میں بھی مندی کا رجحان برقرار رہا۔ کورین اسٹاک ایکسچینج میں تقریباً 6 فیصد جبکہ جاپان کی مارکیٹوں میں 3 فیصد گراوٹ دیکھی گئی۔ منگل کے روز امریکی اسٹاک مارکیٹس میں بھی منفی رجحان رہا، جو عالمی مالیاتی ماحول پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

سال 2026 کے پہلے روز اسٹاک مارکیٹ میں تیز رفتار اضافہ، پی ایس ایکس 100 انڈیکس ایک لاکھ 76 ہزار سے اوپر

عالمی منڈیوں میں خام تیل اور قیمتی دھاتیں

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بھی اضافے کا شکار ہو گئی ہیں۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 83 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اسی طرح سونے کی فی اونس قیمت میں 88 ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ 5,176 ڈالر پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ یورپ میں گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو توانائی کے شعبے میں عالمی دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔

اثرات اور سرمایہ کاروں کی تشویش

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ عالمی سیاسی کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کی وجہ سے سرمایہ کار خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اسٹاک مارکیٹس میں مندی اور عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ایک ساتھ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

مجموعی طور پر ایشیائی اور عالمی منڈیوں پر موجودہ جغرافیائی کشیدگی کا اثر سرمایہ کاری، توانائی اور مالیاتی استحکام پر واضح طور پر پڑ رہا ہے، اور سرمایہ کار عالمی حالات کے بارے میں محتاط رویہ اپنانے پر مجبور ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter