Tel Aviv میں اسرائیلی حکام نے ایک امریکی یہودی خاتون کو ملک بدر کرنے کا حکم دے دیا ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے ایک کمسن فلسطینی لڑکی پر گاڑی چڑھانے کے واقعے کی ویڈیو بنائی تھی۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ خاتون کو حکومتی احکامات کے تحت ملک چھوڑنے کا کہا گیا ہے۔ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ایک فلسطینی بچی کو گاڑی سے ٹکر مارنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی۔
خاتون کا مؤقف ہے کہ اسے اسرائیلی حکومت پر تنقید اور سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کے اظہار کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور یہی اس کی ملک بدری کی اصل وجہ ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون ایک اسرائیلی ڈرائیور کے ساتھ جھگڑے میں ملوث تھی، جس کے بعد یہ صورتحال پیدا ہوئی۔ حکام کے مطابق معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
