البانیہ میں پُرتشدد مظاہرے، وزیر اعظم ایڈی راما سے استعفے کا مطالبہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

فرانس کے بعد البانیہ میں بھی حکومت مخالف مظاہروں نے شدت اختیار کرلی ہے، جہاں ہزاروں افراد نے بدعنوانی، یونیورسٹیوں کی خراب صورتحال اور بھاری ٹیوشن فیسوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعظم ایڈی راما سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ دارالحکومت ترانا میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے دوران درجنوں افراد زخمی ہوگئے، جبکہ متعدد سرکاری اور نجی عمارتوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

latest urdu news

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق منگل سے جاری احتجاج نے دارالحکومت میں کشیدگی بڑھا دی ہے۔ مظاہرین حکومت سے فوری اقدامات اور وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں، تاہم ایڈی راما نے عہدہ چھوڑنے سے انکار کردیا ہے۔

وزارتِ تعلیم کے باہر مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں

اتوار کی دوپہر سیکڑوں مظاہرین وزارتِ تعلیم کے باہر جمع ہوئے اور ’’راما، استعفیٰ دو‘‘ کے نعرے لگائے۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم ہوا، جس پر سکیورٹی اہلکاروں نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

شہر میں حالات کشیدہ ہونے کے باعث کاروباری مراکز نے اپنی دکانوں اور عمارتوں کے دروازوں اور کھڑکیوں پر دھاتی شٹر نصب کرلیے ہیں۔ میونسپل کارکنوں نے سڑکوں سے پتھر بھی ہٹائے تاکہ انہیں پولیس پر حملوں کے لیے استعمال نہ کیا جاسکے۔

عمارتوں کو نقصان، پولیس کی جانب سے ربڑ کی گولیاں فائر

دارالحکومت ترانا میں ہفتے کے روز مظاہروں کے دوران صورتحال مزید خراب ہوگئی۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور پیٹرول بم، دھاتی اشیا اور پٹاخے پھینکے۔ رات گئے تک جاری رہنے والے تشدد کے دوران عدالت، بینکوں اور ایک ڈاک خانے سمیت متعدد عمارتوں کو آگ لگانے یا نقصان پہنچانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

کشیدگی میں اضافے کے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ربڑ کی گولیاں بھی فائر کیں۔ ان واقعات کے نتیجے میں دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں کاروباری سرگرمیاں اور معمولات متاثر ہوئے۔

فرانس میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے پُرتشدد، 1,800 سے زائد افراد گرفتار

272 افراد زخمی، 37 پولیس اہلکار بھی شامل

البانیہ کی وزارتِ صحت کی جانب سے اتوار کی صبح جاری کردہ رپورٹ کے مطابق تازہ جھڑپوں میں 65 افراد زخمی ہوئے، جن میں 37 پولیس اہلکار شامل ہیں۔ زخمیوں میں سے 12 افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق منگل سے اب تک ہونے والی جھڑپوں میں مجموعی طور پر 272 افراد زخمی ہوچکے ہیں، جن میں 169 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار ملک میں جاری احتجاج کے دوران تشدد کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔

وزیر اعظم کا استعفے سے انکار، امریکا کی تحمل کی اپیل

وزیر اعظم ایڈی راما نے مستعفی ہونے سے انکار کرتے ہوئے مظاہروں کو مبینہ طور پر بیرونی ہاتھ کی کارروائی قرار دیا ہے۔ تاہم حکومت مخالف احتجاج جاری ہے اور مظاہرین اپنی شکایات کے ازالے اور سیاسی قیادت میں تبدیلی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

البانیہ کے قریبی اتحادی امریکا نے بھی صورتحال پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ترانا میں امریکی سفارت خانے کے ذریعے ہفتے کی رات تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی گئی۔

حالیہ مظاہرے البانیہ میں کئی ماہ سے جاری حکومت مخالف احتجاج کا تسلسل ہیں۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق احتجاج میں تیزی آنے کی ایک وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان سے منسلک ایک متنازع ریزورٹ کی تعمیر کا منصوبہ بھی ہے۔ مظاہروں کے آئندہ مرحلے اور حکومت کے ردعمل سے متعلق صورتحال بدستور غیر یقینی ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں