افغانستان میں سابق پولیس کمانڈر قتل، طالبان رجیم کی ریاستی دہشتگردی جاری

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

افغانستان میں سابق سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں ایک اور اضافہ ہوا ہے، جہاں صوبہ پکتیکا میں طالبان نے سابق پولیس کمانڈر کو اس کے گھر کے باہر گولیاں مار کر قتل کر دیا۔

latest urdu news

میڈیا رپورٹس کے مطابق، مقتول پولیس کمانڈر رمضان چار سالہ جلاوطنی کے بعد اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ وطن واپس لوٹے تھے۔ طالبان کے اس حملے نے ان کے واپس آنے کی خوشی کو درد میں بدل دیا۔

سول سوسائٹی نے افغان طالبان رجیم کے نام نہاد عام معافی کے دعووں کو دھوکہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ دعوے محض عوام کو بہلانے کے لیے ہیں۔ سابق پولیس افسران کی قبروں کی بے حرمتی اور ان کی جانوں کا ضیاع واضح ثبوت ہیں کہ طالبان ریاستی سطح پر دہشتگردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی معاونت برائے افغانستان مشن (یوناما) کے مطابق پچھلے سال کے آخری تین مہینوں میں کم از کم 14 سابق سیکیورٹی اہلکار طالبان رجیم کی ریاستی دہشتگردی کا شکار ہوئے ہیں۔

سرحد پار کارروائیاں: افغانستان میں انٹیلی جنس بنیادوں پر ائیر اسٹرائیکس، 7 مراکز تباہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان سابق سیکیورٹی اہلکاروں کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ خوف و دہشت کے ذریعے اپنی جابرانہ حکومت کو قائم رکھا جا سکے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ سابق فوجی و پولیس اہلکار معاشرتی اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے ڈر جائیں اور کسی بھی قسم کی مزاحمت یا احتجاج سے گریز کریں۔

طالبان کی یہ کارروائیاں نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ افغانستان میں امن و امان کی صورتحال کے لیے بھی خطرناک اشارہ ہیں۔ بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں نے اس قتل کی شدید مذمت کی ہے اور سابق سیکیورٹی اہلکاروں کے تحفظ کے لیے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter