آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے سپر 8 مرحلے میں جنوبی افریقا کے خلاف بھاری شکست کے بعد بھارتی ٹیم کی سیمی فائنل تک رسائی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ اہم میچ میں جنوبی افریقا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 188 رنز کا مضبوط ہدف مقرر کیا، جس کے جواب میں بھارتی بیٹنگ لائن مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی۔
ہدف کے تعاقب میں بھارتی ٹیم صرف 111 رنز پر آؤٹ ہو گئی اور اسے 76 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ رنز کے اعتبار سے یہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی تاریخ میں بھارت کی سب سے بڑی شکست قرار دی جا رہی ہے۔ اس سے قبل 2010 کے ایڈیشن میں بھارت کو 49 رنز سے شکست ہوئی تھی، تاہم حالیہ ناکامی نے پرانا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔
اس شکست کے بعد سپر 8 کے گروپ 1 میں بھارت کی پوزیشن کمزور ہو گئی ہے۔ گروپ میں جنوبی افریقا، ویسٹ انڈیز اور زمبابوے بھی شامل ہیں اور ٹاپ دو ٹیمیں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گی۔ بھارت کا نیٹ رن ریٹ اس میچ کے بعد بری طرح متاثر ہوا ہے اور وہ منفی تین تک گر چکا ہے، جو اس کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سُپر 8 مرحلہ: انگلینڈ کی سری لنکا کے خلاف 51 رنز سے کامیابی
اب بھارتی ٹیم کو اپنے باقی دونوں میچز نہ صرف جیتنا ہوں گے بلکہ بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کرنا بھی ضروری ہوگا تاکہ نیٹ رن ریٹ بہتر بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر ٹیموں کے نتائج بھی اس کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔
ممکنہ صورتحال کے مطابق اگر پوائنٹس برابر ہو جاتے ہیں تو سیمی فائنل میں رسائی کا فیصلہ نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر ہوگا، جہاں بھارت اس وقت واضح طور پر دباؤ میں دکھائی دے رہا ہے۔ یوں بھارتی ٹیم کے لیے اب ہر میچ فیصلہ کن بن چکا ہے اور معمولی لغزش بھی اسے ٹورنامنٹ سے باہر کر سکتی ہے۔
