ڈھاکہ: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے آغاز سے پہلے ہی صحافتی دنیا میں تنازع پیدا ہو گیا ہے، کیونکہ بھارت نے بنگلہ دیش کے متعدد کھیلوں کے صحافیوں کو ایونٹ کی کوریج سے روک دیا ہے۔ بنگلہ دیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق، صحافیوں کو ویزا یا ایکریڈیشن حاصل کرنے میں رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں، جس سے کھیلوں کی دنیا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
بنگلہ دیش کی سپورٹس جرنلسٹس تنظیموں نے اس اقدام کو آزادیٔ صحافت کے خلاف قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ پڑوسی ممالک کے کھیلوں کے تعلقات پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ مختلف تنظیموں نے "غیر منصفانہ پابندی” قرار دیتے ہوئے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
کھیلوں کے مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مسئلہ جلد حل نہ ہوا تو یہ ورلڈ کپ کی ساکھ اور میڈیا کی شفاف کوریج پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان کرکٹ کی حریفانہ تاریخ اس نوعیت کے انتظامی فیصلوں سے تناؤ بڑھا سکتی ہے اور تماشائیوں اور میڈیا کے درمیان تلخی پیدا کر سکتی ہے۔
بنگلا دیش ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے باہر، آئی سی سی نے اسکاٹ لینڈ کو شامل کرنے کا اعلان
بنگلہ دیشی صحافتی تنظیمیں جلد ہی ایک مشترکہ پریس ریلیز جاری کریں گی، جس میں ICC سے مطالبہ کیا جائے گا کہ ایونٹ کی کوریج کے لیے تمام ممالک کے صحافیوں کو یکساں حقوق فراہم کیے جائیں، تاکہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی کوریج منصفانہ اور شفاف رہے۔
