پاکستان کے سابق کرکٹر اور کپتان شاہد آفریدی نے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان کے بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے حکومتی فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے اسے بہترین قرار دیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ وہ ہمیشہ یقین رکھتے ہیں کہ "جب سیاست کے دروازے بند ہوں تو کرکٹ کے دروازے کھل سکتے ہیں”۔
آفریدی کا موقف اور حکومت کے ساتھ حمایت
شاہد آفریدی نے کہا کہ پاکستان کا بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنا افسوسناک ضرور ہے، لیکن وہ اس فیصلے میں اپنی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ کھیل کے ذریعے اظہار یکجہتی کا ایک مضبوط پیغام بھی ہے، خاص طور پر بنگلا دیش کے ساتھ ہمدردی کے لیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس موقع پر آئی سی سی کے لیے یہ ایک امتحان ہے کہ وہ صرف بیانات کی بجائے اپنے عملی فیصلوں سے یہ ثابت کرے کہ وہ ایک غیر جانبدار، خودمختار اور تمام رکن ممالک کے ساتھ منصفانہ رویہ رکھنے والا ادارہ ہے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: پاکستان کا بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ اور اس کی وجوہات
پس منظر: بنگلا دیش اور بھارتی میچ
واضح رہے کہ بنگلا دیش نے بھارت میں عدم تحفظ کے خدشات کی بنیاد پر آئی سی سی سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنے تمام میچز سری لنکا منتقل کرے، لیکن آئی سی سی نے معاملہ سمجھنے یا حل کرنے کی بجائے اسکات لینڈ کو شامل کرلیا۔
اس صورتحال کے بعد حکومت پاکستان نے بنگلا دیش کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر بھارت کے خلاف 15 فروری کو ہونے والے ہائی وولٹیج میچ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
شاہد آفریدی کی اپیل
سابق کپتان نے تمام فریقین سے اپیل کی کہ وہ کرکٹ کو سیاست سے الگ رکھیں اور اس کھیل کے ذریعے عوام میں مثبت رویہ پیدا کریں۔ ان کے مطابق کھیل کو عوام کے لیے قریب لانے کا ذریعہ ہونا چاہیے، نہ کہ تنازعات کو ہوا دینے کا۔
