پاکستان ون ڈے ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے کہا ہے کہ سرحد پار بعض لوگوں کی جانب سے اسپورٹس مین اسپرٹ کا فقدان دیکھا گیا ہے، تاہم پاکستانی ٹیم کا مؤقف واضح ہے کہ وہ الزامات، تنقید یا منفی رویّوں کا جواب صرف اور صرف میدان میں اپنی کارکردگی سے دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ ایک مہذب کھیل ہے اور پاکستان ٹیم کھیل کے ذریعے مثبت پیغام دینا چاہتی ہے۔
لاہور میں قلندرز ہائی پرفارمنس سینٹر کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہین آفریدی نے کہا کہ قومی ٹیم نے حالیہ عرصے میں مجموعی طور پر اچھی کرکٹ کھیلی ہے اور کھلاڑیوں کی کارکردگی میں تسلسل نظر آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈکپ سے قبل سری لنکا میں سیریز کھیلنا پاکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا کیونکہ وہاں کی کنڈیشنز بڑے عالمی ایونٹ سے کافی حد تک ملتی جلتی ہیں، جس سے کھلاڑیوں کو خود کو بہتر طور پر تیار کرنے کا موقع ملے گا۔
قومی ون ڈے ٹیم کے کپتان کا کہنا تھا کہ ہر کھلاڑی کی اولین ترجیح ملک کے لیے بہترین کھیل پیش کرنا ہوتی ہے۔ ان کے مطابق ٹیم میں نوجوان اور سینئر کھلاڑیوں کا اچھا امتزاج موجود ہے اور یہی توازن پاکستان ٹیم کو آگے لے جانے میں مدد دے گا۔ شاہین آفریدی نے اعتماد ظاہر کیا کہ آنے والے مقابلوں میں پاکستانی ٹیم مزید بہتر کارکردگی دکھائے گی۔
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شاہین آفریدی نے کہا کہ لاہور قلندرز اس مرتبہ بھی مضبوط ٹیم کے طور پر میدان میں اترے گی اور ٹائٹل جیتنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور قلندرز کا وژن صرف میچز جیتنا نہیں بلکہ پاکستان کے لیے معیاری اور باصلاحیت کرکٹرز تیار کرنا بھی ہے، اور اسی مقصد کے تحت ہائی پرفارمنس سینٹر جیسے منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔
پاکستانی فاسٹ بولرز جارحانہ مزاج رکھتے ہیں، جو مجھے پسند ہے: شاہین آفریدی
اپنی فٹنس کے بارے میں بات کرتے ہوئے شاہین آفریدی نے بتایا کہ ان کے گھٹنے کی انجری تشویشناک نہیں ہے بلکہ صرف سوجن ہے، جو جلد ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگلے ہفتے سے باقاعدہ بولنگ شروع کر دیں گے اور مکمل فٹ ہو کر ٹیم کو دستیاب ہوں گے۔
بگ بیش لیگ میں بابر اعظم کی بیٹنگ سے متعلق سوال پر شاہین آفریدی نے کہا کہ کسی بھی بڑے بیٹر کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ ہر میچ میں نصف سنچری یا سنچری اسکور کرے۔ ان کے مطابق بابر اعظم ایک عالمی معیار کے بیٹر ہیں اور وہ اپنی موجودگی سے ہی ٹیم پر مثبت اثر ڈالتے ہیں۔
شاہین آفریدی کے ان بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستانی ٹیم منفی باتوں کے بجائے اپنی توجہ کارکردگی، نظم و ضبط اور کھیل کی روح پر مرکوز رکھنا چاہتی ہے اور میدان میں بہترین کھیل کے ذریعے ناقدین کو جواب دینے کے عزم پر قائم ہے۔
