قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے کہا ہے کہ کمزور ٹیموں کے خلاف پاکستان کی کارکردگی سب سے بہتر نظر آتی ہے، تاہم جب مقابلہ مضبوط حریف سے ہو تو ٹیم مشکلات کا شکار ہو جاتی ہے۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کے خلاف میچ سے پہلے پاکستان کی تیاری کا جائزہ لیا جائے تو زیادہ تر مقابلے نسبتاً کمزور ٹیموں کے خلاف کھیلے گئے۔ ان کے مطابق قومی ٹیم نے عمان، متحدہ عرب امارات، سری لنکا، بنگلادیش اور امریکا کے خلاف میچز کھیلے اور کامیابیاں حاصل کیں، مگر سخت حریف سامنے آئے تو کارکردگی میں تسلسل برقرار نہ رہ سکا۔
راشد لطیف نے نشاندہی کی کہ گزشتہ ایک سال کے دوران بھارت قومی کرکٹ ٹیم کے خلاف یہ چوتھی شکست ہے، جبکہ نیوزی لینڈ قومی کرکٹ ٹیم کے خلاف پانچ میچز میں صرف ایک کامیابی حاصل کی جا سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط ٹیموں کے خلاف نتائج واضح فرق کو ظاہر کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آسٹریلیا قومی کرکٹ ٹیم اور جنوبی افریقا قومی کرکٹ ٹیم کی جو ٹیمیں پاکستان آئیں وہ بھی مکمل طاقت کے ساتھ نہیں تھیں، اس لیے ان مقابلوں کو اصل معیار نہیں بنایا جا سکتا۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: بھارت نے پاکستان کو 61 رنز سے شکست دے دی
سابق کپتان کے مطابق کمزور ٹیموں کے خلاف پاکستان بہترین کارکردگی دکھاتا ہے، لیکن جب مقابلہ سخت ہو تو 50 سے 60 رنز کا واضح فرق سامنے آ جاتا ہے۔ انہوں نے ٹیم کے توازن پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسکواڈ میں کئی ہمہ جہت کھلاڑی شامل ہیں، مگر نہ وہ مؤثر گیند بازی کر پا رہے ہیں اور نہ ہی بلے بازی میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔
راشد لطیف کا کہنا تھا کہ اگر قومی ٹیم کو عالمی سطح پر مضبوط بننا ہے تو اسے مضبوط حریفوں کے خلاف زیادہ میچز کھیل کر اپنی خامیوں پر قابو پانا ہوگا، ورنہ بڑی ٹیموں کے سامنے مشکلات برقرار رہیں گی۔
