کراچی: پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 11 کے چھٹے میچ میں لاہور قلندرز اور کراچی کنگز کے درمیان میچ کے دوران گیند کی حالت میں تبدیلی (بال ٹیمپرنگ) کے الزام نے خبروں کی زینت بن گیا۔ میچ کے دوران لاہور قلندرز کو اس معاملے پر 5 رنز کی پنالٹی کا سامنا کرنا پڑا۔
شاہین آفریدی کا موقف
میچ کے بعد لاہور قلندرز کے کپتان شاہین آفریدی نے میڈیا سے گفتگو میں اس معاملے پر وضاحت دی۔ قومی ٹیم کے فاسٹ بولر نے کہا کہ "مجھے کچھ معلوم نہیں، کیمروں میں دیکھیں گے، پھر بات ہوگی کہ یہ کس نے کیا۔”
یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا جب پی ایس ایل کے سابق کپتان رمیز راجہ نے شاہین سے سوال کیا کہ میچ کے آخر میں گیند آپ سے کیوں لے لی گئی، کیا یہ بال ٹیمپرنگ کے سبب ہوا؟ شاہین آفریدی نے سوال کا جواب دیتے ہوئے معاملے کی تحقیقات پر زور دیا اور کہا کہ اس بات کا تعین کیمروں کی فوٹیج سے ہوگا۔
فخر زمان کے خلاف کارروائی
پی سی بی کے مطابق لاہور قلندرز کے فخر زمان کو گیند کی حالت میں تبدیلی کے الزام پر لیول تھری جرم کے تحت چارج کیا گیا ہے۔ یہ اقدام پی ایس ایل کی پلئینگ کنڈیشنز کے آرٹیکل 41.3 کی خلاف ورزی کے سبب کیا گیا، جو کھلاڑیوں کو گیند کو نقصان پہنچانے یا اس کی حالت میں تبدیلی کرنے سے روکتا ہے۔
رمیز راجہ کا شاہین شاہ آفریدی سے سوال :
"میچ کے آخر میں آپ سے گیند لے لی گئی کیونکہ اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ (بال ٹیمپرنگ) ہوئی تھی، اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟”
شاہین: "مجھے کچھ معلوم نہیں، کیمروں میں دیکھیں گے… پھر بات ہوگی کہ یہ کس نے کیا۔”
👀 معاملہ سنجیدہ لگ رہا ہے… کیا سچ… pic.twitter.com/6tUVfgvQEW— Ather Salem® (@AthSal01) March 29, 2026
میچ ریفری روشن ماہنامہ نے ڈسپلنری سماعت کی، تاہم فخر زمان نے اپنے اوپر لگے چارج سے انکار کیا۔ اس معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے عوامی اعلامیہ بھی جاری کیا۔
پی ایس ایل 11: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے حیدرآباد کنگزمین کے خلاف بیٹنگ کا فیصلہ کیا
نتیجہ اور آگے کے اقدامات
اب یہ معاملہ پی ایس ایل ڈسپلنری کمیٹی کے زیر غور ہے اور شواہد کی روشنی میں حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ اس واقعے نے لیگ میں کھلاڑیوں کی ذمہ داری، گیند کی حفاظت اور کھیل کی ایمانداری کے موضوعات پر اہم بحث کو جنم دیا ہے۔
