پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کو لے کر پیدا ہونے والی صورتحال نے کرکٹ حکام کو مشکل انتخاب پر مجبور کر دیا ہے۔ بنگلا دیشی حکومت اور کرکٹ بورڈ نے بھارت میں شیڈول میچز نہ کھیلنے کا اعلان کیا ہے اور اپنی ٹیم کے بھارت نہ جانے پر سخت موقف اپنایا ہے۔
بنگلا دیش کا موقف اور سیکیورٹی خدشات
بنگلا دیشی کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی سے درخواست کی ہے کہ ان کے میچز سری لنکا یا دیگر محفوظ مقام پر منتقل کیے جائیں۔ بنگلا دیش کا موقف صرف سیکیورٹی خدشات تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے حالیہ واقعات بھی ہیں، جیسے کہ بنگلا دیشی فاسٹ باؤلر مستفیض الرحمان کا آئی پی ایل سے نکالا جانا، جس کے بعد بی سی بی اور حکومت نے سخت رویہ اختیار کیا۔
پاکستان کی حمایت اور ممکنہ اقدامات
پاکستان نے بنگلا دیش کو یقین دہانی کرائی ہے کہ کسی بھی ملک کو دوسرے ملک پر دباؤ ڈالنے یا ڈرانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق اگر بنگلا دیش کا مسئلہ حل نہ ہوا تو پاکستان بھی اپنے ورلڈ کپ میں حصہ لینے کے منصوبوں پر نظرِ ثانی کر سکتا ہے، جو صورتحال کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
آئی سی سی کی کوششیں اور خطے پر اثر
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) بھی صورتحال کو قابو میں رکھنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے حکام سے بات چیت جاری ہے تاکہ اختلافات ختم کیے جا سکیں اور ورلڈ کپ کی میزبانی متاثر نہ ہو۔
بنگلا دیش کا ٹی20 ورلڈکپ کیلئے بھارت جانے سے ایک بار پھر انکار، آئی سی سی کو تفصیلی جواب ارسال
یہ صورتحال صرف کرکٹ شیڈول پر اثر انداز نہیں ہو رہی بلکہ خطے کے سیاسی اور سفارتی تعلقات پر بھی اثر ڈال رہی ہے، کیونکہ ٹورنامنٹ کا آغاز 7 فروری سے بھارت اور سری لنکا میں متوقع ہے اور چند ہفتوں سے بھی کم وقت باقی ہے۔
مستقبل کے فیصلے
اگرچہ آئی سی سی نے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا ہے، بنگلا دیشی ٹیم کا موقف برقرار ہے اور آئندہ فیصلوں کے لیے بورڈ اور آئی سی سی کے درمیان باہمی مشاورت ضروری ہو گئی ہے۔ یہ اقدامات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہیں کہ ورلڈ کپ کے شیڈول میں کسی بھی قسم کا خلل نہ آئے اور کھلاڑیوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
